سوچنے کی باتیں — Page 21
34 33 مخلص کی پہچان لطیفہ مشہور ہے کہ ایک عورت کی بیٹی جس کا نام مہتی تھا، دق اور سل ہوگئی۔وہ ہمیشہ یہ دعا کیا کرتی تھی کہ اے خدا! میں مرجاؤں لیکن میری بیٹی بچ جائے۔جب عزرائیل اس کی جان نکالنے آئے تو اس کی بجائے میری جان نکال لے۔اس عورت نے ایک گائے رکھی ہوئی تھی۔ایک رات کو اس کا رسہ ٹوٹ گیا تو وہ صحن میں گھس آئی۔وہاں ایک گھڑا پڑا تھا گائے نے بھوسہ کھانے کے لئے اس میں اپنا منہ ڈال لیا۔گھڑے کا منہ تنگ تھا لیکن بوجہ دباؤ اس کا سر گھڑے میں پڑ گیا۔مگر جب اس سے سر نکالنا چاہا تو وہ نہ نکلا۔گائے گھبرائی اور صحن میں اس نے ناچنا شروع کر دیا۔وہ عورت یہ خیال کرتی تھی کہ عزرائیل کی شکل نرالی ہوگی۔جب اس گائے کو گھڑا اٹھائے ناچتے دیکھا تو اس نے خیال کیا کہ یہ عزرائیل ہے جو مهتی کی جان نکالنے آیا ہے۔وہ پہلے تو یہ دعا کیا کرتی تھی کہ یا اللہ! میں مرجاؤں، مہتی نہ مرے اور جب عزرائیل آئے تو میرے جان نکال لے۔مہتی کی جان نہ نکالے لیکن جب اس کے خیال میں عزرائیل جان نکالنے آیا تو وہ سب دعا ئیں بھول گئی اور کہنے لگی۔ملک الموت من نہ مہتی ام - من یکے پیر زال محنتی ام یعنی جو عورت پہلے یہ دعا کر رہی تھی کہ عزرائیل میری لڑکی کی بجائے میری جان نکال لے۔وہی جب وقت آیا تو کہنے لگی میں مہتی یعنی لڑکی کی والدہ نہیں ایک اور مزدور عورت ہوں۔یہی مثال اس شخص کی ہے، جو درود پڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بیٹے قربان کرنے کے مواقع بار بار دے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تو ایک دفعہ بیٹا قربان کرنے کا موقعہ ملا تھا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بار بار بیٹا قربان کرنے کا موقعہ ملے۔پھر اسمعیل علیہ السلام کو تو ایک دفعہ قربان ہونے کا موقعہ ملا تھا لیکن تم دعا کرتے ہو کہ اے خدا ہمیں بار بار قربان ہونے کا موقعہ دے لیکن جب قربان ہونے کا وقت آتا ہے تو کہتے ہیں ملک الموت من نہ مہنتی ام - من یکے پیرزال محنتی ام۔یہ چیز ہے جو عید الاضحیہ یاد کرانے کے لئے آتی ہے۔گویا درود کی تشریح عیدالاضحیہ ہے اور تم یہ کہتے ہو کہ ہم خدا تعالیٰ کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیں گے اور جب تم ہمیشہ یہ اقرار کرتے ہو تو اب اپنی جانیں قربان کرو۔کبھی تمہاری بھی عیدالاضحیہ آئے گی کر نہیں؟ ( خطبات محمود جلد ۲ صفحه ۳۴۸ بحواله الفضل ۷ اکتو برا ۱۹۵ء) ☆☆☆ www۔alislam۔org