سوچنے کی باتیں — Page 37
66 65 یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی مسلمان کے گھر میں بچے کے کان میں اذان کہنے کی حکمت بچہ پیدا ہو تو فوراً اس کے ایک کان میں اذان اور دوسرے کان میں اقامت کہو۔یورپ کے فرانس میں ایک دفعہ ایک لڑکی کو دورے پڑنے شروع ہوئے جب اسے دورہ پڑتا تو وہ جرمن زبان میں بعض مذہبی دعائیں پڑھنا شروع کر دیتی وہ فرانسیسی لڑکی تھی اور جرمن زبان کا ایک حرف بھی نہیں جانتی تھی۔جب دورے میں اس نے جرمن زبان میں باتیں شروع کیں تو ڈاکٹروں نے فوراً شور مچادیا کہ اب تو جن ثابت ہو گئے یہ لڑ کی تو جرمن زبان نہیں جانتی۔یہ جو جرمن زبان بول رہی ہے تو ضرور اس کے سر پر جن سوار ہے آخر ایک ڈاکٹر نے اس کے متعلق تحقیقات شروع کی وہ حافظہ کا بہت بڑا ماہر تھا۔جب اس نے تحقیق کی تو اسے معلوم ہوا کہ جب پیڑ کی دواڑھائی سال کی تھی تو اس وقت اس کی ماں ایک جرمن پادری کے پاس ملازم تھی جب وہ پادری جرمن زبان میں سرمن پڑھتا تو یہ لڑکی اس وقت پنگھوڑے میں پڑی ہوتی تھی جب اسے یہ بات معلوم ہوئی تو وہ اس جرمن پادری کی تلاش میں نکلا اسے معلوم ہوا کہ وہ جرمن پادری اس وقت سپین میں ہے۔پین پہنچنے پر اسے معلوم ہوا کہ وہ پادری ریٹائر ہو کر جرمنی چلا گیا ہے اس کی تلاش میں جرمنی پہنچا۔وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ پادری مر گیا ہے۔مگر اس نے اپنی کوشش نہ چھوڑی اور اس نے گھر والوں سے کہا کہ اگر اس پادری کے کوئی پرانے کاغذات ہوں تو وہ مجھے دکھائے جائیں۔گھر والوں نے تلاش کر کے اسے بعض کا غذات دیئے اور جب اس نے ان کا غذات کو دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ دعا ئیں جو بے ہوشی کی حالت میں وہ لڑکی پڑھا کرتی تھی وہ وہی ہیں جو اس پادری کی سرمن تھی۔اب دیکھو دو اڑھائی سال کی عمر میں ایک پادری نے اس کے سامنے بعض باتیں کیں جو اس کے دماغ میں اللہ تعالیٰ نے محفوظ کر دیں۔مد برین نے تو آج یہ معلوم کیا ہے کہ انسانی دماغ میں سالہا سال کی پرانی چیزیں محفوظ رہتی ہیں۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے اس نکتہ کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ بچہ کے پیدا ہوتے ہی تم اس کے کان میں اذان کہو کیونکہ اب وہ دنیا میں آ گیا ہے اور اب اس کا دماغ اس قابل ہے کہ وہ تمہاری باتوں کو محفوظ رکھے۔( سیر روحانی جلد دوم صفحه 138 ) www۔alislam۔org