سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 23

38 37 لڈو اور حضرت مظہر جانِ جاناں اگر انسان اپنے دل میں شکر گذاری کا جذبہ پیدا کرے تو اسے عالم کا ذرہ ذرہ اپنا حسن دکھائی دیتا ہے اور چونکہ عالم کا ہر ذرہ خدا تعالیٰ کے احسان کے نیچے ہے اس لئے اسے خدا ہی اپنا محسن حقیقی نظر آتا ہے۔حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں دتی کے ایک بہت بڑے بزرگ گذرے ہیں۔ان کے متعلق لکھا ہے کہ انہیں لڑو بہت پسند تھے۔دلی میں بالائی کے لڈو بنتے ہیں جو بہت لذیذ ہوتے ہیں۔ایک دفعہ وہ اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کوئی شخص بالائی کے دولڈوان کے پاس ہدیہ لایا۔ان کے ایک شاگر دغلام علی شاہ بھی اس وقت پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے وہ دونوں لڈو ان کو دے دیئے۔بالائی کے لڈو بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں۔اخروٹ کے برابر بلکہ اس سے بھی چھوٹے ہوتے ہیں۔انہوں نے ایک دفعہ ہی وہ دونوں لڑو اٹھائے اور منہ میں ڈال لئے۔جب وہ کھا چکے تو حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: میاں غلام علی ! معلوم ہوتا ہے تم کولڈ وکھانے نہیں آتے۔وہ اس وقت تو خاموش ہو گئے مگر کچھ دنوں کے بعد ان سے کہنے لگے حضور مجھے لڈو کھانے سکھا دیجئے۔حضرت مرزا مظہر جان جاناں نے کہا کہ اگر اب کسی دن لڈو آئیں تو مجھے بتانا۔میں تمہیں لڑوکھا نا سکھا دوں گا۔کچھ دنوں کے بعد پھر کوئی شخص ان کے لئے بالائی کے لڈولا یا۔میاں غلام علی صاحب کہنے لگے۔حضور ! آپ نے میرے ساتھ وعدہ فرمایا ہوا ہے کہ میں تمہیں لڑوکھا نا سکھا دوں گا۔آج اتفاقاً پھر لڈو آ گئے ہیں۔آپ مجھے بتائیں کہ لڈو کس طرح کھائے جاتے ہیں۔انہوں نے اپنا رومال نکالا اور اس پر وہ لڈور کھ کر ایک لڈو سے ذرہ سا ٹکڑہ تو ڑ کر اپنے منہ میں ڈالا اور سبحان اللہ سبحان اللہ کہنے لگ گئے۔پھر فرمانے لگے۔واہ مظہر جان جاناں تجھ پر تیرے رب کا کتنا بڑا فضل ہے۔یہ کہ کر پھر سبحان اللہ سبحان اللہ کہنے لگ گئے اور اپنے شاگرد کو مخاطب کر کے فرمایا : میاں غلام علی۔یہ لڈو کن کن چیزوں سے بنتا ہے۔انہوں نے چیزوں کے نام گنانے شروع کر دیئے کہ اس میں کچھ بالائی ہے، کچھ میٹھا ہے، کچھ میدہ ہے۔یہ سن کر انہوں نے پھر سبحان اللہ سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا اور فرمایا: میاں غلام علی۔تمہیں پتہ ہے یہ میٹھا جو اس لڑو میں پڑا ہے کس طرح بنا۔انہوں نے بتایا کہ زمیندار نے پہلے گنا بویا۔پھر بلینے میں اس کو بیلا۔پھر رس تیار ہوئی اور اس سے شکر بنائی گئی۔حضرت مظہر جان جاناں فرمانے لگے: دیکھو وہ زمیندار جس نے نیشکر کو بویا تھا وہ کس طرح اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے کھیتوں میں گیا۔اس نے ہل چلایا۔کھیتوں کو پانی دیا اور ایک لمبے عرصہ تک محنت و مشقت برداشت کرتارہا۔صرف اس لئے کہ مظہر جان جاناں ایک لڈو کھا لے۔یہ کہ کر وہ پھر اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید میں مشغول ہو گئے اور تھوڑی دیر بعد فرمانے لگے: چھ ماہ زمیندار اپنے کھیت کو پانی دیتا رہا۔پھر کس محنت سے اس نے نیشکر کو بیلا۔اس سے رس نکالی اور پھر آگ جلا کر کتنی دفعہ وہ اس دنیا کے دوزخ میں گیا۔محض اس لئے کہ مظہر جانِ جاناں ایک لڈو کھالے۔اس کے بعد انہوں نے اسی طرح میدہ اور بالائی کے متعلق تفاصیل بیان کرنی شروع کر دیں کہ کس طرح ہزاروں آدمی دن رات ان کاموں میں مشغول رہے۔انہوں نے اپنی صحت کی پرواہ نہ کی۔انہوں نے اپنے آرام کو نہ دیکھا۔انہوں نے اپنی آسائش کو نظر انداز کر دیا اور یہ سارے کام خدا تعالیٰ نے ان سے محض اس لئے کرائے کہ مظہر جان جاناں ایک لڈو کھالے۔یہ کہہ کر ان پر پھر ربودگی کی کیفیت طاری ہوگئی اور وہ سبحان اللہ سبحان اللہ کہنے لگ گئے۔اتنے میں عصر کا وقت آ گیا اور وہ اٹھ کر نماز کیلئے چلے گئے اور لڈو اسی طرح پڑا رہا۔( تفسیر کبیر جلدے صفحہ ۱۸-۱۹) www۔alislam۔org