سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 22

36 35 جاتے ہیں، میں غریب مسکین اور عاجز انسان اس بزرگ کے قدموں تک کس طرح پہنچ سکتا چل کے خود آئے مسیحا کسی بیمار کے پاس ہوں۔تو اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا فرما کہ میری ان سے ملاقات ہو جائے۔میں سمجھتا ایک بزرگ کا واقعہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ ان کی طرف سرکاری سمن آیا جس میں یہ لکھا تھا کہ آپ پر بعض لوگوں کی طرف سے ایک الزام لگایا گیا ہے، اس کی جواب دہی کے لئے آپ فوراً حکومت کے سامنے حاضر ہوں ، وہ یہ سن کر حیران رہ گئے کیونکہ وہ ہمیشہ ذکر الہی میں مشغول رہتے تھے مگر چونکہ سرکاری سمن تھا وہ چل پڑے۔دس بیس میل گئے ہوں گے کہ آندھی آئی ، اندھیرا چھا گیا، آسمان پر بادل امڈ آئے اور بارش شروع ہو گئی، وہ اس وقت ایک جنگل میں سے گزر رہے تھے، جس میں دُور دُور تک آبادی کا کوئی نشان تک نہ تھا صرف چند جھونپڑیاں اس جنگل میں نظر آئیں وہ ایک جھونپڑی کے قریب پہنچے اور آواز دی کہ اگر اجازت ہو تو اندر آ جاؤں۔اندر سے آواز آئی کہ آ جائیے۔انہوں نے گھوڑا باہر باندھا اور اندر چلے گئے۔دیکھا تو ایک اپاہج شخص چار پائی پر پڑا ہے۔اس نے محبت اور پیار کے ساتھ انہیں اپنے پاس بٹھالیا اور پوچھا کہ آپ کا کیا نام ہے اور آپ کس جگہ سے تشریف لا رہے ہیں؟ انہوں نے اپنا نام بتایا اور ساتھ ہی کہا کہ بادشاہ کی طرف سے مجھے ایک سمن پہنچا ہے جس کی تعمیل کے لئے میں جارہا ہوں اور میں حیران ہوں کہ مجھے یہ یمن کیوں آیا کیونکہ میں نے کبھی دنیوی جھگڑوں میں دخل نہیں دیا۔وہ یہ واقعہ سن کر کہنے لگا کہ آپ گھبرائیں نہیں۔یہ سامان اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے پاس پہنچانے کے لئے کیا ہے۔میں اپاہج ہوں۔رات دن چار پائی پر پڑا رہتا ہوں ، مجھے میں چلنے کی طاقت نہیں ،لیکن میں نے اپنے دوستوں سے آپ کا کئی بار ذکر سنا اور آپ کی بزرگی کی شہرت میرے کانوں تک پہنچی ، میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیں کیا کرتا تھا کہ یا اللہ قسمت والے تو وہاں چلے ہوں کہ اس سمن کے بہانے اللہ تعالیٰ آپ کو محض میرے لئے یہاں لایا ہے۔ابھی وہ یہ باتیں ہی کر رہے تھے کہ باہر سے آواز آئی بارش ہورہی ہے اگر اجازت ہو تو اندر آ جاؤں۔انہوں نے دروازہ کھولا اور ایک شخص اندر آیا۔یہ سرکاری پیادہ تھا۔انہوں نے اس سے پوچھا کہ آپ اس وقت کہاں جا رہے ہیں وہ کہنے لگا بادشاہ کی طرف سے مجھے حکم ملا ہے میں فلاں بزرگ کے پاس جاؤں اور ان سے کہوں کہ آپ کو بلانے میں غلطی ہوگئی ہے دراصل وہ کسی اور کے نام سمن جاری ہونا چاہئے تھا مگر نام کی مشابہت کی وجہ سے وہ آپ کے نام جاری ہو گیا۔اس لئے آپ کے آنے کی ضرورت نہیں۔یہ بات سن کر وہ اپاہج مسکرایا اور اس نے کہا: دیکھا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ محض میرے لئے یہاں لایا ہے۔سمن محض ایک ذریعہ تھا جس کی وجہ سے آپ میرے پاس پہنچے۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے۔والذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِ يَنَّهُمْ سُبُلَنَا جولوگ ہم میں ہو کر اور ہم سے مدد مانگتے ہوئے اپنے مقاصد کے لئے جدو جہد کرتے ہیں ہم اس مقصد کے حصول کے لئے ان پر دروازے کھول دیتے ہیں۔(سیر روحانی جلد دوم صفحه ۱۲۹) www۔alislam۔org