سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 19

30 29 رگدا حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ دو قسم کے گداگر ہوتے ہیں ایک وہ جو دروازے پر آ کر مانگنے کے لئے جب آواز دیتے ہیں تو کچھ لئے بغیر نہیں ملتے۔ان کو ٹر گدا کہتے ہیں اور دوسرے وہ جو آ کر آواز دیتے ہیں اگر کوئی دینے سے انکار کر دے تو اگلے دروازے پر چلے جاتے ہیں۔ان کو خر گدا کہتے ہیں۔آپ فرماتے کہ انسان کو خدا تعالیٰ کے حضور خر گدا نہیں بننا چاہئے۔بلکہ نر گدا ہونا چاہئے اور اس وقت تک خدا کی درگاہ سے نہیں ہٹنا چاہئے جب تک کچھ پل نہ چکے۔اس طرح کرنے سے اگر دعا قبول نہ بھی ہوئی ہو تو خدا تعالیٰ کسی اور ذریعہ سے ہی نفع پہنچادیتا ہے۔پس دوسرا گر دعا کے قبول کروانے کا یہ ہے کہ انسان نر گدا بنے نہ کہ خر گدا۔اور سمجھ لے کہ کچھ لے کر ہی ہٹنا ہے۔خواہ پچاس سال ہی کیوں نہ دعا کرتا رہے۔یہی یقین رکھے کہ خدا میری دعا ضرور سنے گا۔یہ خیال بھی اپنے دل میں نہ آنے دے کہ نہیں سنے گا اگر چہ جس کام یا مقصد کے لئے وہ دعا کرتا ہو وہ بظاہر ختم شدہ ہی کیوں نہ نظر آئے پھر بھی دعا کرتا ہی جائے۔لکھا ہے ایک بزرگ ہر روز دعا مانگا کرتے تھے ایک دن جبکہ وہ دعا مانگ رہے تھے ان کا ایک مرید آکر ان کے پاس بیٹھ گیا۔اس وقت ان کو الہام ہوا جو اس مرید کو بھی سنائی دیا۔لیکن وہ ادب کی خاطر چپکا ہورہا اور اس کے متعلق کچھ نہ کہا۔دوسرے دن پھر جب انہوں نے دعا مانگنی شروع کی تو وہی الہام ہوا جسے اس مرید نے بھی سنا۔اس دن بھی وہ چپ رہا۔تیسرے دن پھر وہی الہام ہوا۔اس دن اس سے نہ رہا گیا۔اس لئے اس بزرگ کو کہنے لگا کہ آج تیسرا دن ہے کہ میں سنتا ہوں ہر روز آپ کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہاری دعا قبول نہیں کروں گا۔جب خدا تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے تو پھر آپ کیوں کرتے ہیں۔جانے دیں۔انہوں نے کہا: نادان! تو صرف تین دن خدا کی طرف سے یہ الہام سن کر گھبرا گیا ہے اور کہتا ہے کہ جانے دو۔دعا ہی نہ کرو۔مگر مجھے تمیں سال ہوئے ہیں یہی الہام سنتے لیکن میں نہیں گھبرایا اور نہ نا امید ہوا ہوں۔خدا تعالیٰ کا کام قبول کرنا ہے اور میرا کام دعا مانگنا۔تو خواہ مخواہ دخل دینے والا کون ہے؟ وہ اپنا کام کر رہا ہے میں اپنا کر رہا ہوں۔لکھا ہے۔دوسرے ہی دن الہام ہوا کہ تم نے تمیں سال کے عرصہ میں جس قدر دعائیں کی تھیں ہم نے وہ سب قبول کرلی ہیں۔تو اللہ سے کبھی نا امید نہیں ہونا چاہئے۔ناامید ہونے والے پر اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑک اٹھتا ہے جو شخص نا اُمید ہوتا ہے وہ سوچے کہ کونسی کمی ہے جو اس کے لئے خدا نے پوری نہیں کی۔کیسے کیسے فضل اور کیسے کیسے انعام ہوئے اور ہور ہے ہیں۔پھر آئندہ ناامید ہونے کی کیا وجہ ہے؟ خطبات محمود جلد ۵ صفحه ۱۸۳ بحوالہ الفضل ۲۹ جولائی ۱۹۱۶ء) www۔alislam۔org