سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 259

سرّالخلافة — Page 87

سر الخلافة ۸۷ اردو تر جمه وما كان كما نخاله من المتبتلين؛ اور جیسا کہ ہم ان کے متعلق خیال کرتے ہیں وہ بل كان يكب على الدنيا ويطلب دنیا کو تیاگ کر اللہ سے کو لگانے والے نہ تھے زينتها، وكان في زخارفها من بلکہ وہ دنیا پر گرے ہوئے تھے اور اس کی زینت الراغبين۔ولأجل ذلك ما فارق کے طالب تھے اور اس کی رعنائیوں کے فریفتہ الكافرين المرتدين، بل دخل فيهم تھے اسی وجہ سے آپ نے کافر مرتدوں کا ساتھ كالمداهنين، واختار التقية إلى نہ چھوڑا۔بلکہ مداہنت اختیار کرنے والوں کی طرح مدة قريبة من ثلاثين۔ثم لما كان ان میں شامل رہے اور قریباً تمہیں سال کی مدت الصديق الأكبر كافرا أو غاصبا في تك تقيه اختیار کئے رکھا۔پھر جب صدیق اکبر أعين على المرتضى رضى الله علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضی کی نگاہ میں تعالى عنه وأرضى، فلِمَ رضى بان كا فريا غاصب تھے تو پھر کیوں وہ اُن کی بیعت پر يبايعه؟ ولم ما هاجر من أرض راضی ہوئے اور کیوں انہوں نے ظلم، فتنے اور الظلم والفتنة والارتداد إلى بلاد ارتداد كى سرزمین سے دوسرے ممالک کی جانب أخرى؟ ألم تكن أرض الله واسعة ہجرت نہ کی؟ کیا اللہ کی زمین اتنی فراخ نہ تھی کہ فيهاجر فيها كما هي سُنّة ذوی وہ اس میں ہجرت کر جاتے جیسا کہ یہ تقویٰ التقى؟ انظر إلى إبراهيم الذى شعاروں کی سنت ہے۔وفا شعار ابراہیم کو وقي۔كيف كان في شهادة دیکھو کہ وہ حق کی شہادت میں کیسے شدید الحق شديد القوى، فلمّا القویٰ تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ اُن کا رأى أن أباه ضل ،وغوی و رأی باپ گمراہ ہو گیا اور راہِ حق سے بھٹک گیا ہے القوم أنهم يعبدون الأصنام اور یہ دیکھا کہ ان کی قوم بتوں کو پوج رہی ہے ويتركون الرب الأعلى، أعرض اور وہ ربّ اعلیٰ کو چھوڑ بیٹھے ہیں تو انہوں نے عنهم وما خاف وما بالی ان سے اعراض کر لیا اور نہ ڈرے اور نہ پرواہ کی۔