سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 259

سرّالخلافة — Page 86

سر الخلافة ۸۶ اردو ترجمہ أيها الناس لا تظنوا ظن السوء اے لوگو! صحابہ کے متعلق بدظنی مت کرو۔اور في الصحابة، ولا تُهلكوا أنفسكم اپنے آپ کو شبہات کے دشت و صحرا میں ہلاک نہ ۲۷ في بوادي الاسترابة، تلك أمة کرو۔یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی۔اور وہ قد خلت ولا تعلمون حقيقة حقیقت جو دور ہوگئی اور چھپ گئی تم اسے نہیں بعدت واختفت، ولا تعلمون ما جانتے اور نہ ہی اس سے آگاہ ہو جو اُن کے جرى بينهم، و كيف زاغوا بعد در میان گزرا۔اور وہ کیسے کج راہ ہو سکتے ہیں جن کی ما نور الله عينهم، فلا تتبعوا ما آنکھیں اللہ نے روشن کیں۔جس چیز کا تمہیں علم ليس لكم به علم واتقوا الله إن نہیں اس کے پیچھے مت لگو اور اگر تم جھکنے والے ہو كنتم خاشعين۔وإن الصحابة تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقیناً سب صحابہ اور اہل وأهل البيت كانوا روحانیین بیت روحانی لوگ تھے اور انقطاع اور تبتل الی اللہ منقطعين إلى الله ومتبتلين، فلا کرنے والے تھے۔اس لئے میں یہ کبھی بھی أقبل أبدا أنهم تنازعوا للدنيا تسلیم نہیں کرتا کہ وہ (صحابہ) حقیر دنیا کی خاطر الدنية، وأسر بعضُهم غِلَّ البعض باہم لڑنے جھگڑنے لگے اور ایک دوسرے کے في الطوية، حتى رجع الأمر إلى متعلق دل میں اتنا کینہ رکھا۔حتی کہ معاملہ باہمی تقاتل بينهم وفساد ذات البين جنگ، جدائی ڈالنے والے فساد اور کھلے کھلے عناد وعناد مبين۔ولو فرضنا أن تک جا پہنچا۔اور اگر ہم یہ فرض کر بھی لیں کہ الــصـديـق الأكبر كان من الذين صديق اكبر ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے آثروا الدنيا وزخرفها، ورضوا دنیا اور اس کی رعنائیوں کو مقدم کیا اور ان پر بها وكان من الغاصبین، فنضطر راضی ہو گئے اور وہ غاصب تھے۔تو ایسی صورت حينئذ إلى أن نقرّ أنّ عليَّا أسد میں ہم اس بات پر مجبور ہوں گے کہ یہ اقرار الله أيضًا كان من المنافقین کریں کہ شیر خدا علی بھی منافقوں میں شامل تھے