سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 259

سرّالخلافة — Page 74

سر الخلافة ۷۴ اردو تر جمه فما له وأهل النيران؟ فتفکر تو پھر آپ کا اور آگ کے باسیوں کا کیا واسطہ؟ ولا تختر طرق الخسران الہذا سوچ سے کام لے! اور گھاٹا پانے والوں کی و تأدب مع رسول الله یا راہیں اختیار نہ کر۔اور اے آنکھوں والے ! رسول اوراے ذا العينين، ولا تجعل قبره بين اللہ ﷺ کا ادب ملحوظ رکھ ، اور حضور کی قبر کو دو الكافرين الغاصبين، ولا تُضِعُ کافروں اور غاصبوں کے درمیان مت قرار دے إيمانك للمرتضى أو الحسين، اور اپنے ایمان کو (علی) مرتضی یا (امام) حسین ولا حاجة لهما إلى إطرائك يا كى خاطر ضائع نہ کر۔اے جھوٹ کے اسیر! ان کی أسـيـر الـميـن فـاغـمـدُ عَضُبَ دونوں ( بزرگوں) کو تیری مبالغہ آمیز ستائش کی لسانك وكن من المتقين ضرورت نہیں اس لئے اپنی زبان کی تلوار کو نیام أيرضى قلبك ويسرّ سِربك میں رکھ اور متقیوں میں سے بن۔کیا تیرا دل پسند أن تدفن بين الكفار و کان علی کرے گا اور تیرے سینے کو اس سے سرور ملے گا يمينك ويسارك كافران كه تو کافروں کے درمیان دفن کیا جائے اور من الأشرار ؟ فكيف تجوّز تیرے دائیں اور تیرے بائیں اشرار میں سے دو لسيّد الأبرار ما لا تجوّز کافر ہوں؟ تو پھر اے قھار خدا کے قہر کے مورد تو لنفسك يا مورد قهر القهار ؟ سید الابرار کے لئے وہ چیز کیوں جائز سمجھتا ہے جو أتنزل خير الرسل منزلة لا تو خود اپنے لئے جائز نہیں سمجھتا؟ کیا تو خیر الرسل ترضاها، ولا تنظر مراتب کو اس مقام پر لا رہا ہے جس کو تو اپنے لئے پسند عصمته وإياها؟ أين ذهب نہیں کرتا۔اور تو خود حضور کی عصمت کے أدبك وعقلك وفهمك ؟ مراتب کی پاسداری نہیں کرتا۔تیرا ادب اور عقل أ اختطفته جن و همك و فہم کہاں چلا گیا ؟ کیا تیرے وہم کے جن نے وتركتك كالمسحورين؟ اُسے اُچک لیا ہے اور تجھے سحر زدہ کر چھوڑا ہے؟