سرّالخلافة — Page 39
سر الخلافة ۳۹ اردو تر جمه كلا بل إنه زكى نفوسهم وطهر حقیقت یہ ہے کہ (اللہ ) نے ان کے نفوس کا قلوبهم، ونوّر ،شموسهم تزکیہ فرمایا اور ان کے دلوں کو پاکیزگی بخشی اور ان وجعلهم سابقين للطيبين الآتين کے وجودوں کو منور کیا۔اور آئندہ آنے والے ولا نجد احتمالا ضعيفا ولا پاکبازوں کا پیشرو بنایا۔اور ہم کوئی کمزور احتمال اور وهما طفيفا يُخبر عن فساد سطحی خیال بھی نہیں پاتے جو ان کی نیتوں کے فساد نياتهم، أو يشير إلى أدنى کی خبر دے یا ان کی ادنی برائی کی طرف اشارہ کرتا سيئاتهم، فضلا عن جزم النفس ہو چہ جائیکہ کہ ان کی ذات کی طرف ظلم منسوب على نسبة الظلم إلى ذواتهم کرنے کا کوئی پختہ ارادہ کرے۔بخداوہ انصاف ووالله إنهم كانوا قوما کرنے والے لوگ تھے۔اگر انہیں مال حرام کی وادی مقسطين۔ولو أنهم أعطوا واديا بھی دی جاتی تو وہ اس پر تھوکتے بھی نہیں اور نہ من مال من غیر حلال فما تفلوا ہی حریصوں کی طرح اس کی طرف مائل ہوتے۔عليه وما مالوا كأهل الهواء، ولو خواه سونا پہاڑوں جتنا یا سات زمینوں جتنا كان ذهبا كأمثال الربى، أو كمقدار ہوتا۔اگر انہیں حلال مال ملتا تو وہ ضرور اسے الأرضين۔ولو وجدوا حلالا من صاحب جبروت (خدا) کی راہ اور دینی مہمات (۱۳) المال لأنفقوه فی سبل ذی الجلال میں خرچ کرتے۔پس ہم یہ کیسے خیال کر سکتے ہیں ومهمات الدين۔فكيف نظن أنهم کہ انہوں نے چند درختوں کی خاطر (فاطمة) أغضبوا الزهراء لأشجار، وآذوا الزہراء کو ناراض کر دیا اور جگر گوشتہ نبی (ع) فلذة النبي كأشرار، بل للأحرار کو شر پسندوں کی طرح اذیت دی۔بلکہ شرفاء نيات، ولهم على الحق ثبات نیک نیت ہوتے اور حق پر ثابت قدم ہوتے وعليهم من الله صلوات ہیں اور اللہ کی طرف سے ان پر رحمتیں نازل ہوتی والله يـعـلـم ضمائر المتقين ہیں اور اللہ متقیوں کے باطن کو خوب جانتا ہے