سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 259

سرّالخلافة — Page 252

سر الخلافة ۲۵۲ اردو تر جمه القصيدة للمؤلّف نَفْسِي الْفِدَاءُ لِبَدْرٍ هَاشِمِي عَرَبِى وَدَادُهُ قُرَبٌ نَاهِيْكَ عَنْ قُرَبِ میری جان فدا ہو ا کامل چاند پر جو ہاشمی عربی ہے۔آپ کی محبت قربتوں کا ایسا ذریعہ ہے جو تجھے باقی قربت کے ذرائع سے بے نیاز کردینے والا ہے نَجَّا الْوَرَى مِنْ كُلِّ زُورٍ وَّ مَعْصِيَةٍ وَمِنْ فُسُوقٍ وَمِنْ شِرْكَ وَمِنْ تَبَبِ آپ نے مخلوق کو ہر جھوٹ اور گناہ سے اور فسق سے، شرک سے اور ہلاکت سے بھی نجات دی فَنُوِّرَتْ مِلَّةٌ كَانَتْ كَمَعْدُومٍ ضُعْفًا وَّ رُحِمَتُ ذَرَارِى الْجَآنَ بِالشُّهُبِ پس منور ہو گئی وہ ملت جو ضعف میں معدوم کی طرح تھی۔اور شیطان کی ذریت شہابوں سے سنگسار کی گئی وَزَحْزَحَتْ دَخُنًا غَشَّى عَلَى مِلَلٍ وَسَاقَطَتْ لُؤْلُؤًا رَطْبًا عَلَى حَطَبٍ اور اس ملت نے ان تاریکیوں کو دور کر دیا جو قوموں پر چھائی ہوئی تھیں اور سوکھی لکڑیوں پر تر وتازہ موتی برسا دیئے وَنَضْرَتْ شَجُرَ ذِكْرِ اللَّهِ فِي زَمَنِ مَحْلٍ يُمِيتُ قُلُوبَ النَّاسِ مِنْ لَعِبِ اور اس ملت نے ذکر اللہ کے درخت کو شاداب کر دیا ایسے خشک سالی کے زمانے میں جولوگوں کے دلوں کو کھیل کود سے مردہ کر رہا تھا فَلاحَ نُورٌ عَلَى أَرْضِ مُكَدَّرَةٍ حَقًّا وَّ مُزِّقَتِ الْأَشْرَارُ بِالْقُضُبِ پس ایک نور تاریک زمین (دلوں) پر یقینی طور پر ظاہر ہوا اور کاٹنے والی تیز تلواروں سے اشرار پارہ پارہ کر دیئے گئے وَمَا بَقَى أَثَرٌ مِنْ ظُلْمٍ وَبِدْعَاتٍ بِنُورِ مُهْجَةِ خَيْرِ الْعُجْمِ وَالْعَرَبِ ور ظلم اور بدعات کا کوئی نشان عرب و عجم میں سے بہترین شخص کی جان کے نور کی وجہ سے باقی نہ رہا وَكَانَ الْوَرَى بِصَفَاءِ نِيَّاتٍ مَعَ رَبِّهِمُ الْعَلِي فِي كُلِّ مُنْقَلَبِ اور مخلوق نیتوں کی صفائی کی وجہ سے اپنی ہر حالت میں اپنے بلند شان والے رب کے ساتھ ہو گئی لَهُ صَحُبٌ كِرَامٌ رَّاقَ مِيُسَمُهُمْ وَجَلَّتْ مَحَاسِنُهُمْ فِي الْبَدْءِ وَالْعَقِبِ آپ کے بزرگ صحابی ہیں جن کے فضائل دلکش ہیں۔اور ان کی خوبیاں ابتدا اور آخر میں شاندار ہیں لَهُمْ قُلُوبٌ كَلَيْثٍ غَيْرِ مُكْتَرِثٍ وَفَضْلُهُمْ مُسْتَبِيْنٌ۔ان کے دل ایک بے پرواہ شیر کی طرح ہیں اور ان کا کمال ظاہر ہے، چھپا ہوا نہیں أَي عَلَى قُلُوبٍ -