سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 259

سرّالخلافة — Page 217

سر الخلافة ۲۱۷ اردو تر جمه حضرت آدم سے لے کر تا ایں دم کبھی کسی انسان کی نسبت نزول کا لفظ جب آسمان کی طرف نسبت دیا جائے جسمانی نزول پر اطلاق نہیں پایا اور جو دعویٰ کرے کہ پایا ہے وہ اس کا ثبوت پیش کرے۔اور جب اب تک نزول جسمانی پر اطلاق نہیں پایا تو اب خلاف سنت اللہ اور محاورہ قدیمہ کے جو اس کی کتابوں میں پایا جاتا ہے کیوں کر اطلاق پائے گا ولن تجد لسنة الله تبديلا_ اور پھر ہم تنزل کے طور پر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نجمی اب بھی اس صریح اور واضح بیان کو نہ سمجھے تو اتنا تو ضرور سمجھتا ہوگا کہ متنازعہ فیہ مقام میں توفی کا لفظ وہ محکم اور بین لفظ ہے جس کے معنے فیصلہ پاگئے اور قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے معنے مارنا ہی فرمایا ہے اور حضرت ابن عباس نے بھی اس کے معنے ما رنا ہی لکھا ہے اور امام بخاری نے بھی مارنے پر ہی عملی طور پر شہادت دی ہے لیکن اس کے مقابل پر نزول کا جو لفظ ہے اس کی نسبت اگر ایک بڑے سے بڑا متعصب کچھ تاویلیں کرے تو اس سے زیادہ نہیں کہ سکتا کہ وہ ایک لفظ ہے جو متشابہات میں داخل ہے لیکن فیصلہ شدہ لفظ اور اُس کے تین اور محکم معنوں کو چھوڑ کر متشابہات کی طرف دوڑ نا انہیں لوگوں کا کام ہے جن کے دل میں مرض ہے۔اگر ایمان ہے تو وہ لفظ جو (۷۹) بینات اور محکمات میں داخل ہو گیا اُسی سے پنجہ مارو نہ کسی ایسے لفظ سے جو متشابہات میں داخل رہا اور متشابہات کی تاویل خدا تعالیٰ کے علم کی طرف حوالہ کرو تا نجات پاؤ۔بڑی بھاری نزاع جو ہم میں اور ہمارے مخالفوں میں ہے یہی ہے جو میں نے بیان کر دی ہے اور ماحصل یہی نکلا کہ ہم بینات اور محکمات سے پنجہ مارتے ہیں جو قرآن سے ثابت ، حدیث سے ثابت ، اقوال صحابہ سے ثابت ، پہلی کتابوں کے نظائر سے ثابت ، سنت اللہ سے ثابت ، امام بخاری کے قول سے ثابت ، امام مالک کے قول سے ثابت ابن قیم کے قول سے ثابت ، ابن تیمیہ کے قول سے ثابت اور اسلام کے بعض