سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 259

سرّالخلافة — Page 208

سر الخلافة ۲۰۸ اردو تر جمه لیتی ہے۔سوگورنمنٹ دانشمند نے اس شخص کی تحریروں پر کچھ توجہ نہ کی اور کیونکر توجہ کرتی اس کو معلوم تھا کہ ایک خود غرض دشمن نفسانی جوش سے جھوٹی مخبری کر رہا ہے گورنمنٹ کو اس عاجز کے خاندان کے خیر خواہ ہونے پر بصیرت کامل تھی اور گورنمنٹ خوب جانتی تھی کہ یہ عاجز عرصہ چودہ سال سے برخلاف ان تمام مولویوں کے بار بار یہ مضمون شائع کر رہا ہے کہ ہم لوگ جو گورنمنٹ ۷۲ برطانیہ کی رعیت ہیں ہمارے لئے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے گورنمنٹ ھذا کے زیر اطاعت رہنا اپنا فرض ہے اور بغاوت کرنا حرام۔اور جو شخص بغاوت کا طریق اختیار کرے یا اس کے لئے کوئی مفسدانہ بناڈالے یا ایسے مجمع میں شریک ہو یا راز دار ہوتو وہ اللہ اور رسول کے حکم کی نافرمانی کر رہا ہے اور جو کچھ اس عاجز نے گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیر خواہ بننے کے لئے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے وہ سب سچ ہے۔نادان مولوی نہیں جانتے کہ جہاد کے واسطے شرائط ہیں سکھا شاہی لوٹ مار کا نام جہاد نہیں اور رعیت کو اپنی محافظ گورنمنٹ کے ساتھ کسی طور سے جہاد درست نہیں اللہ تعالیٰ ہرگز پسند نہیں کرتا کہ ایک گورنمنٹ اپنی ایک رعیت کے جان اور مال اور عزت کی محافظ ہو اور ان کے دین کے لئے بھی پوری پوری آزادی عبادات کے لئے دے رکھی ہو۔لیکن وہ رعیت موقع پا کر اس گورنمنٹ کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو یہ دین نہیں بلکہ بیدینی ہے اور نیک کام نہیں بلکہ بدمعاشی ہے۔خدا تعالیٰ ان مسلمانوں کی حالت پر رحم کرے کہ جو اس مسئلہ کو نہیں سمجھتے اور اس گورنمنٹ کے تحت میں ایک منافقانہ زندگی بسر کر رہے ہیں جوایمانداری سے بہت بعید ہے۔ہم نے سارا قرآن شریف تدبر سے دیکھا مگر نیکی کی جگہ بدی کرنے کی تعلیم کہیں نہیں پائی۔ہاں یہ سچ ہے کہ اس گورنمنٹ کی قوم مذہب کے بارے میں نہایت غلطی پر ہے وہ اس روشنی کے زمانہ میں ایک انسان کو خدا بنارہے ہیں اور ایک عاجز مسکین کو رب العالمین کا لقب دے رہے ہیں۔مگر اس صورت میں تو وہ اور بھی رحم کے لائق اور راہ دکھانے کے محتاج ہیں کیونکہ وہ بالکل صراط مستقیم کو بھول گئے اور دور جا پڑے ہیں۔ہم کو چاہیئے کہ ان کے احسان یاد کر کے ان کے لئے جناب الہی میں دعا کریں کہ اے خداوند