سرّالخلافة — Page 207
سر الخلافة ۲۰۷ اردو تر جمه موزوں ہوگا۔لیکن ابھی یہ بات قابل آزمائش ہے کہ آپ منشی بھی ہیں یا نہیں۔منشی کے لئے ضروری ہے کہ فارسی نظم میں پوری دسترس رکھتا ہو مگر میری نظر سے اب تک آپ کا کوئی فارسی دیوان نہیں گزرا۔بہر حال اگر ہم رعایت اور چشم پوشی کے طور پر آپ کا منشی ہونا مان بھی لیں اور فرض کر لیں کہ آپ منشی ہیں گو منشیانہ لیاقتیں آپ میں پائی نہیں جاتیں تو چنداں حرج نہیں کیونکہ منشی گری کو ہمارے دین سے کچھ تعلق نہیں لیکن ہم کسی طرح مولوی کا خطاب ایسے نادانوں کو دے نہیں سکتے جن کو ہم پانچ ہزار روپیہ تک انعام دینا کریں تب بھی اُن کی مردہ روح میں کچھ قوت مقابلہ ظاہر نہ ہو ہزار لعنت کی دھمکی دیں کچھ غیرت نہ آوے تمام دنیا کو مددگار بنانے کے لئے اجازت دیں تب بھی ایک جھوٹے منہ سے بھی ہاں نہ کہیں ایسے لوگوں کو اگر مولوی کا لقب دیا جاوے تو کیا بجز مسلمانوں کے کافر بنانے کے کچھ اور بھی ان میں لیاقت ہے۔ہر گز نہیں۔چار حدیثیں پڑھ کر نام شیخ الکل نعوذ بالله من فتن هذا الدهر و اهلها ونعوذ بالله من جهلات الجاهلين۔یہ بھی واضح رہے کہ ہر یک باحیا دشمن اپنی دشمنی میں کسی حد تک جا کر ٹھہر جاتا ہے اور ایسے جھوٹوں کے استعمال سے اُس کو شرم آجاتی ہے جن کی اصلیت کچھ بھی نہ ہو مگر افسوس کہ شیخ صاحب نے کچھ بھی اس انسانی شرم سے کام نہیں لیا جہاں تک ضرر رسانی کے وسائل اُن کے ذہن میں آئے انہوں نے سب استعمال کئے اور کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔اوّل تو لوگوں کو اٹھایا کہ یہ شخص کافر ہے اور دجال ہے اس کی ملاقات سے پر ہیز کرو اور جہاں تک ہو سکے اس کو ایذا دو اور ہر ایک ظلم سے اس کو دکھ دو سب ثواب کی بات ہے۔اور جب اس تدبیر میں ناکام رہے تو گورنمنٹ انگریزی کو مشتعل کرنے کے لئے کیسے کیسے جھوٹ بنائے کیسے کیسے مفتریات سے مدد لی لیکن یہ گورنمنٹ دوراندیش اور مردم شناس گورنمنٹ ہے سکھوں کے قدم پر نہیں چلتی کہ دشمن اور خود غرض کے منہ سے ایک بات سن کر افروختہ ہو جائے بلکہ اپنی خدا داد عقل سے کام