سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 259

سرّالخلافة — Page 205

سر الخلافة ۲۰۵ اردو تر جمه جميع لوازم بلاغت و فصاحت والتزام حق اور حکمت میں نور الحق کے ثانی ہو تو تین ہزار روپیہ نقد بطور انعام شیخ صاحب کو دیا جائے گا اور نیز الہام کے جھوٹا ٹھہرانے کے لئے بھی ایک سہل اور صاف راستہ ان کو مل جائے گا اور ہزار لعنت کے داغ سے بھی بچ جائیں گے۔ورنہ وہ نہ صرف مغلوب بلکہ الہام کے مصدق ٹھہریں گے۔مگر شیخ صاحب نے ان باتوں میں سے کسی بات کی بھی پرواہ نہ کی اور کچھ بھی غیرت مندی نہ دکھلائی۔اس کا کیا سبب تھا ؟ بس یہی کہ یہ مقابلہ شیخ صاحب کی طاقت سے باہر ہے سونا چار انہوں نے اپنی رسوائی کو قبول کر لیا اور اس طرف رخ نہ کیا یہ اسی الہام کی تصدیق ہے کہ إِنِّي مُهين من أَراد اهانتك شيخ صاحب نے منبروں پر چڑھ چڑھ کر صدہا آدمیوں میں صد ہا موقعوں میں بار بار اس عاجز کی نسبت بیان کیا کہ یہ شخص زبان عربی سے محض بے خبر اور علوم دین سے محض نا آشنا ہے ایک جاہل آدمی ہے اور کذاب اور دجال ہے اور اسی پر بس نہ کیا بلکہ صد ہا خط اسی مضمون کے اپنے دوستوں کو لکھے اور جابجا یہی مضمون شائع کیا۔اور اپنے جاہل دوستوں کے دلوں ﴿20﴾ میں بٹھا دیا کہ یہی سچ ہے۔سوخدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس متکبر کا غرور توڑے اور اس گردن کش کی گردن کو مروڑے اور اس کو دکھلاوے کہ کیونکر وہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔سواس کی توفیق اور مدد اور خاص اس کی تعلیم اور تفہیم سے یہ کتابیں تالیف ہوئیں اور ہم نے کرامات الصادقین اور نور الحق کے لئے آخری تاریخ درخواست مقابلہ کی اس مولوی اور تمام مخالفوں کے لئے اخیر جون ۱۸۹۴ ء مقرر کی تھی جو گزرگئی اور اب دونوں کتابوں کے بعد یہ کتاب سر الخلافہ تالیف ہوئی ہے جو بہت مختصر ہے اور نظم اس کی کم ہے اور ایک عربی دان شخص ایسا رسالہ سات دن میں بہت آسانی سے بنا سکتا ہے اور چھپنے کے لئے دس دن کافی ہیں لیکن ہم شیخ صاحب کی حالت اور اس کے دوستوں کی کم مائیگی پر بہت ہی رحم کر کے دس دن اور زیادہ کر دیتے ہیں اور یہ ستائیس دن ہوئے سو ہم فی دن ایک روپیہ کے حساب سے ستائیس روپیہ کے انعام پر یہ کتاب شائع کرتے ہیں اور شیخ صاحب اور ان کے