سرّالخلافة — Page 186
سر الخلافة ۱۸۶ اردو ترجمہ وَشَابَهَهُ الْفَارُوقُ فِى كُلِّ خُطَّةٍ وَسَاسَ الْبَرَايَا كَالْمَلِيكِ الْمُدَبِّرِ اور (عمر) فاروق ہر فضیلت میں ان کے مشابہ ہوا اور اس نے ایک مدبر بادشاہ کی طرح رعایا کا انتظام کیا۔بقية الحاشية : - واني ماقلــت کمتبع بقیہ حاشیہ:۔اور میں نے جو کچھ کہا ہے وہ خواہشات نفس کی پیروی الاهواء او مقلد امر وجد من الاباء بل کرنے والے شخص کی طرح یا آباؤ و اجداد کے خیالات کی تقلید حُبّب الى مُذْ سَعَت قدمي ونفث قلمى کرنے والے کی طرح نہیں کہا بلکہ جب سے میرے قدم نے چلنا ان اتخذ التـحـقـيـق شـرعـة والتعميق اور میرے قلم نے لکھنا شروع کیا، مجھے یہی محبوب رہا کہ میں تحقیق کو نجعـة فـكـنـت انقب عن كل خبر واسئل اپنا مسلک اور غور و فکر کواپنا مقصود بناؤں۔چنانچہ میں ہر خبر کی چھان عن كل حبر۔فوجدت الصديق صديقا بین کرتا اور ہر ماہر علم سے پوچھتا۔پس میں نے صدیق وكشف على هذا الامر تحقيقا فاذا (اکبر) کو (واقعی) صدیق پایا۔اور تحقیق کی رو سے یہ امر مجھ پر الفيته امام الائمة وسراج الدين والأمة منکشف ہوا۔جب میں نے آپ کو تمام اماموں کا امام اور دین اور شددت يدى بغرزه و أويت الى حرزه امت کا چراغ پایا۔تب میں نے آپ کی رکاب کو مضبوطی سے واستنـزلـت رحمة ربى بحب الصالحین تھام لیا اور آپ کی امان میں پناہ لی اور صالحین سے محبت کر کے فرحمنی و آوانی و ایدنی و ربانی و جعلنی اپنے رب کی رحمت حاصل کرنی چاہی۔پس اُس (خدائے رحیم ) من المكرمين۔وجعلني مجدد هذه المأة نے مجھ پر رحم فرمایا۔پناہ دی ، میری تائید فرمائی اور میری تربیت کی والمسيح الموعود من الرحمة وجعلني من اور مجھے معزز لوگوں میں سے بنایا۔اور اپنی رحمت خاص سے اُس المكلّمين واذهب عنى الحزن واعطانی نے مجھے اس صدی کا مجد داور مسیح موعود بنایا اور مجھے ملہمین میں سے مالم يعط احد من العالمين۔وكل بنایا۔مجھ سے غم کو دُور کیا اور مجھے وہ کچھ عطا کیا جو دنیا جہاں میں کسی ذلك بالنبي الكريم الأمى و حب اور کو عطا نہیں کیا۔اور یہ سب اُس نبی کریم اتمی اور ان مقربین کی محبت هؤلاء المقربين اللهم فصل و سلّم کے طفیل حاصل ہوا۔اے اللہ! تو اپنے افضل الرسل اور اپنے خاتم على افضل رسلك و خاتم انبياء ك الانبیاء اور دنیا کے تمام انسانوں سے بہتر وجود محمد علے پر درود و سلام مـحـمـد خـيـر الـنـاس اجـمـعـيـن ووالله بھیج ! بخدا ( حضرت ابوبکر شھر مین میں بھی اور دونوں قبروں میں ان ابـا بـكـر كـان صـاحـب النبی صلعم فی بھی رسول اللہ عل اللہ کے ساتھی ہیں۔اس سے میری مراد ایک تو غار الحرمين و في القبرين۔اعنى قبر الغار الذي کی قبر ہے جس میں آپ بحالت اضطرار وفات یافتہ شخص کی توارى فيه كالميت عند الاضطرار۔والقبر طرح پناہ گزین ہوئے۔اور پھر (دوسری) وہ قبر جو مدینے میں الذي فـي الـمـديـنـة ملتصقا بقبر خير البرية خير البر یہ ﷺ کی قبر کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔اس لئے صدیق (اکبر) فـانـظـر مـقــام الصديق ان كنت من اهل کے مقام کو سمجھ اگر تو گہری سمجھ کا مالک ہے۔اللہ نے آپ کی اور آپ التعميق۔حـمـده الله و خلافته في القرآن کی خلافت کی قرآن میں تو صیف فرمائی اور بہترین بیان سے آپ واثنى عليه باحسن البيان ولا شك انه کی ستائش کی ہے۔بلا شبہ آپ اللہ کے مقبول اور پسندیدہ ہیں۔اور مقبول الله و مستطاب وهل يحتقر قدره الا آپ کی قدر و منزلت کی تحقیر کسی سر پھرے شخص کے سوا کوئی نہیں کر مــصــاب غـابـت شـوائـب الاسلام بخلافتہ سکتا۔آپ کی خلافت کے ذریعہ اسلام سے تمام خطرات دور ہو گئے الله صل الله