سرّالخلافة — Page 118
سر الخلافة ۱۱۸ اردو تر جمه هذا ما شهدت سُنّة الله نوع انسانی کی بھلائی کے لئے اللہ کی سنت الجارية لنوع الإنسان، وثبت أن جاریہ نے یہی گواہی دی ہے اور اس سے یہ الله يُرى مسالك الخلاص بعد ثابت ہوتا ہے کہ اللہ مختلف مصائب اور شدائد أنواع المصائب والذوبان۔فلما کے بعد نجات کی راہیں دکھاتا ہے۔پھر جب كان من عادات ذي الجلال خدائے ذوالجلال والا کرام کی یہی سنت ہے کہ والإكرام أنه لا يترك عباده وه اپنے کمزور بندوں کو عام ہمہ گیر قحط سالی کے الضعفاء عند القحط العام في وقت دکھوں میں نہیں چھوڑتا اور جب اللہ تعالیٰ الآلام، ولا يريد أن ينفك نظام ایسے نظام کو توڑنا نہیں چاہتا جو جسموں کی يتبعه عطب الأجسام، فكيف ہلاکت کا باعث ہو تو وہ ایسے نظام کو توڑنے پر يرضى بفك نظام فيه موت کیسے راضی ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں روحوں الأرواح ونار جهنم للدوام؟ ثم کی موت ہو اور ہمیشہ کے لئے جہنم کی آگ ہو۔إذا نظرنا في القرآن فوجدناه پھر جب ہم قرآن پر غور کرتے ہیں۔تو ہم مؤيدا لهذا البيان، وقد قال الله اُسے اس بیان کا موید پاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ تعالى إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ نے فرمایا ہے کہ فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۔وإن فى مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا لے اور یقیناً اس میں ہر ذلك لبشرى لكل من تزکی، پاکباز کے لئے بشارت ہے۔نیز اس میں اس وإشارة إلى أن الناس إذا رأوا فى طرف اشارہ ہے کہ جب کسی دور میں لوگ ضرر زمان ضرا وضيرًا، فيرون فی اور نقصان دیکھیں گے تو دوسرے دور میں نفع آخر نفعا وخیرا، ویرون رخاء اور خیر بھی دیکھیں گے۔اور دین و دنیا کی بعد بلاء فى الدين والدنيا۔آزمائشوں کے بعد آسائش بھی دیکھیں گے۔ے پس یقیناً تنگی کے ساتھ آسائش ہے۔یقین تنگی کے ساتھ آسائش ہے۔(الانشراح:۷،۶)