سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 259

سرّالخلافة — Page 103

سر الخلافة ۱۰۳ اردو تر جمه رضی ولا تحسب قولنا هذا نوعا من تو ہمارے اس قول کو کسی قسم کا مبالغہ تصور نہ المبالغة ولا من قبيل المسامحة کر اور نہ ہی اسے نرم رویے اور چشم پوشی کی والتجوز، ولا من فور عين المحبة قسم سے محمول کر اور نہ ہی اسے چشمہ محبت بل هو الحقيقة التي ظهرت علی سے پھوٹنے والا سمجھ بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جو من حضرة العزة۔وكان مشربه بارگاہ رب العزت سے مجھ پر ظاہر ہوئی۔اور الله عنه التوكل على رب آپ رضی اللہ عنہ کا مشرب رب الا رباب پر الأرباب، وقلة الالتفات إلى توكل كرنا اور اسباب کی طرف کم توجہ کرنا الأسباب، وكان كظل لرسولنا تھا۔اور آپ تمام آداب میں ہمارے رسول وسيدنا صلی الله علیه وسلم فی اور آقا علیہ کے بطور ظل کے تھے اور آپ کو جميع الآداب، وكانت له مناسبة حضرت خیر البریہ سے ایک ازلی مناسبت أزلية بحضرة خير البرية، ولذلك تھی۔اور یہی وجہ تھی کہ آپ کو حضور کے فیض حصل له من الفيض في الساعة سے پل بھر میں وہ کچھ حاصل ہو گیا جو الواحدة ما لم يحصل للآخرين دوسروں کو لمبے زمانوں اور دور دراز اقلیموں في الأزمنة المتطاولة والأقطار میں حاصل نہ ہوسکا۔تو جان لے کہ فیوض کسی المتباعدة۔واعلم أن الفيوض لا شخص كى طرف صرف مناسبتوں کی وجہ سے تتوجه إلى أحد إلا بالمناسبات ہی رُخ کرتے ہیں۔اور تمام کائنات میں وكذلك جرت عادة الله فى اسى طرح اللہ کی سنت جاری وساری ہے پس الكائنات، فالذى لم يعطه القسّام جس شخص کو قتام (ازل) نے اولیاء اور ذرة مناسبة بالأولياء والأصفياء ، اصفیاء کے ساتھ ذراسی بھی مناسبت عطا نہ کی فهذا الحرمان هو الذي يُعبر بالشقوة ہو تو یہی وہ محرومی ہے جسے حضرت کبریاء کی والشقاوة عند حضرة الكبرياء جناب میں شقاوت و بد بختی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔