سلسلہ احمدیہ — Page 65
65 نہیں سکتی۔جب سے پاکستان نے مخالفت شروع کی ہوئی ہے جماعت اگر چل رہی تھی تو تیزی سے دوڑ رہی ہے، اگر دوڑ رہی تھی تو اڑتی چلی جارہی ہے۔کوئی دنیا کا ایسا ملک نہیں جہاں جماعت احمد یہ خدا تعالٰی کے فضل سے پہلے سے بیسیوں گنا زیادہ تیز رفتار کے ساتھ آگے نہیں بڑھ رہی۔اس لئے جماعت کی تقدیر تو آسمان پر لکھی ہوئی ہے۔تمہارے ذلیل اور رسوا ہا تھ آسمان پر لکھی ہوئی تقدیر کو مٹا نہیں سکتے۔تمہاری رسوائی کی تقدیر اس زمین پر بھی لکھی جائے گی اور اگر تم اپنے ظلم اور سفاکی سے باز نہ آئے تو تمہیں خدا کی تقدیر عبرت کا نشان بنادے گی اور تم ماضی کا حصہ بن جاؤ گے، مستقبل میں آگے بڑھنے والی قوموں میں شمار نہیں کئے جاؤ گے۔“ ( خطبات ظاہر جلد 8 صفحہ 497 498 مخطبہ جمعہ فرموده 21 جولائی 1989ء) حضرت خلیفہ امسح الرابع " کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے یہ الفاظ بڑی شان کے ساتھ پورے ہوئے اور جماعت احمد یہ بیسیوں گنا تیز رفتاری سے شاہراہ غلبہ اسلام و احمدیت پر آگے بڑھتی چلی جارہی ہے اور دوسری طرف پاکستان میں معاندین احمدیت ملاں اور ان کی سرپرست حکومتیں ذلت و رسوائی کا شکار ہیں۔یہ ایسی کھلی حقیقتیں ہیں جن سے کوئی شہرہ چشم ہی انکار کر سکتا ہے۔سانحہ گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ میں واقع گھٹیالیاں کا گاؤں جماعت احمدیہ میں اس وجہ سے بھی مشہور ہے کیونکہ ربوہ کے بعد اسی قصبے میں جماعت احمدیہ کے زیر اہتمام تعلیم الاسلام ہائی سکول اور تعلیم الاسلام کالج قائم ہوا جن میں سے تعلیم الاسلام سکول آج بھی قائم ہے۔اس قصبے کی تین ہزار آبادی میں دو تہائی غیر از جماعت افراد ہیں۔اس قصبے میں دو احمدی مساجد ہیں، ایک شمال میں اور دوسری شرقی سمت ہے۔شرقی سمت کی مسجد قصبے کے شرقی کونے میں واقع ہے جس کے قریب ہی پسرور جانے والی سڑک گزرتی ہے۔مؤرخہ 30 اکتوبر 2000ء کی صبح نماز فجر پانچ بج کر پچیس منٹ پر ادا کی گئی۔امام الصلوۃ کے فرائض مکرم مشتاق احمد صاحب انجام دیتے تھے جو اس مجلس کے زعیم انصار اللہ اور عت کے سیکرٹری امور عامہ بھی تھے۔نماز کے بعد انہوں نے تفسیر صغیر سے سورۃ فاتحہ کا درس دیا جو معمول سے قدرے طویل ہو گیا۔درس ختم ہونے کے بعد ایک نوجوان خادم محمد اسلم نے ان سے