سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 656 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 656

656 ان بیٹوں نے اس کو پہلے زہر دیا اور یہ ایسا سخت جان تھا کہ زہر سے مر نہ سکا تو پھر انہوں نے اس کو اس زہر کی حالت میں گولیاں ماریں اور اُس کے سر پر تین گولیاں لگیں۔وہ گولیاں کھا کر بھی اس نے آنکھیں کھولیں اور اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی۔اُس پر اس کے اپنے بیٹوں نے گردن دیا کہ اس وقت تک دم نہیں لیا جب تک اس کا دم نہ نکل گیا۔اور جب پولیس آئی اور اُس نے تحقیق کی کوشش کی تو اس کے بیٹوں نے اٹھ کر جواب دیا کہ جاؤ یہاں سے بھاگ جاؤ۔ایک ظالم بد بخت انسان تھا جو اپنے کیفر کردار کو پہنچا ہے۔حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ: یہ وہ شخص ہے جس کے متعلق بہت کی گواہیاں میں نے وہاں سے منگوائی ہیں۔تحریری طور پر بھی الفین احمدیت نے بھی گواہیاں دی ہیں کہ یہ شخص بے گور و کفن وہاں دفنایا یا پھینکا گیا اور اس کی لاش غلاظت کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھی۔ایک ملک منظور الہی اعوان تھا جس کے متعلق آپ لوگوں نے بہت شور پہلے سے من رکھا ہوگا۔یہ وہی شخص ہے جس نے مجھ پر یہ الزام لگایا تھا کہ مولوی اسلم کو میں نے اغوا کرایا ہے اور بے انتہا جھوٹا اور بے حیا انسان تھا۔پہلے یہ لکھا کرتا تھا افسروں کو کہ اگر مرزا طاہر احمد اس کا قاتل ثابت نہ ہوا تو جو چاہنا میرے ساتھ کرنا۔جب وہ دریافت ہوا اور اس کے اعلان شائع ہوئے کہ مرزا طاہر احمد کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔تو پھر بھی یہ حکومت کو لکھتا رہا که۔۔۔۔اس مولوی کا سر پھر گیا ہے، اور اور باتیں بتا رہا ہے۔مگر ہے یہی مرزا طاہر احمد ہی جو اس کا قاتل ہے اور اعلان پر اعلان کرتا رہا کہ اگر نہ نکلے تو مجھے جو مرضی کر دینا۔بہت زیادہ بد زبانی میں بڑھ گیا تھا۔اس کو اللہ تعالیٰ نے اب مباہلے کے بعد یہ سزادی کہ اس کا اپنائے پالک، کیونکہ اس کی اولاد نہیں تھی، وہی اس کا دشمن ہو گیا۔اس سے اس نے بریت کا اعلان کیا۔اس کا اپنا ایک بھتیجا یا بھانجا خدا تعالی کے فضل سے مخلص احمدی ہو گیا اور اسی شہر میں اس نے اپنے اس ماموں یا چھا جو بھی اس کا تھا اس کی مخالفت شروع کی۔یعنی اس کے متعلق علی الاعلان کہنا شروع کیا کہ یہ جھوٹا ہے۔احمدیت سچی ہے۔اس پر ملک منظور بہت سیخ پا ہوا اور اس کی طرح طرح کی اذیت کے سامان کئے۔پولیس کے ذریعے دوسرے ذرائع سے اس کی جان کا دشمن ہو گیا۔لیکن