سلسلہ احمدیہ — Page 594
594 ہیں ان کو خطوط لکھے جائیں ان کو سارا سال اس طرف متوجہ کیا جائے اور مختلف تجاویز ان کے سامنے رکھی جائیں تو پھر یہ ایک ایسی کوشش ہے جو ہو سکتا ہے کہ بعض ایسے دلوں میں بھی تبدیلی پیدا کر دے جو دل با اختیار ہیں۔جن کے پیچھے ایک قوم ہے۔ان ہاتھوں میں بھی جنبش پیدا کر دیں جن کو عنان حکومت تھمائی جاتی ہے، جو ان دماغوں میں یہ تبدیلی پیدا کر دیں جن کی فکر قوم کی فکر بن جایا کرتی ہے۔پس ہر پہلو سے اہل دانش، اہل قلم، اہل دل لوگوں کو جماعت احمدیہ کی طرف سے سمجھا بجھا کر محبت سے، پیار سے یہ باتیں پہنچانی ضروری ہیں اور آئندہ سارا سال دنیا کی ہر جماعت جو میرے اس پیغام کو سن رہی ہے اس میں چھوٹے بڑے سب شریک ہو جائیں اگر بچے اپنی زبان میں ایک بات لکھ سکتے ہیں تو کیوں لکھیں۔بعض دفعہ بچوں کی زبان دل پر زیادہ اثر کرتی ہے اور واقعہ بڑا گہرا اثر کرتی ہے۔تو بچے بھی لکھیں۔جس حد تک توفیقی ہے ملکوں کے سربراہوں کو لکھیں، دانشوروں کو لکھیں، مولویوں کولکھیں۔پنڈتوں کو لکھیں، پادریوں کو لکھیں اور کہیں کہ خدا کا خوف کرو۔اگر اخلاق دنیا سے اٹھ گئے تو مذہب کا رہے گا کیا؟ اگر انسانیت ہی قائم نہ ہوئی تو کیا حیوانوں سے خدار شتے کرے گا۔ان حیوانوں میں کیوں خدا نے نبی نہ بھیج دیتے جن سے بد تر تم ہوتے چلے جارہے ہو۔اس لئے انسان کو انسانیت کے آداب سکھاؤ۔جماعت احمدیہ نے ایک عالمگیر تحریک پیش کی تھی جس کا ذکر میں نے گزشتہ خطاب میں بھی کیا تھا یعنی پیشوایان مذاہب کے جلسوں کا انعقاد۔یہ بہت مفید ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ اب انسانیت کے نام پر ہمیں جلسے کرنے چاہیں۔تحریک بہبود انسانیت کے نام پر تمام دنیا میں جلسے منعقد کرنے چاہئیں۔اس میں صرف مذہب کے نمائندے نہیں آئیں گے، دہریے بھی آئیں گے۔ہر قسم کے لوگ آئیں گے۔ان کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ انسانیت ہے کیا ؟ دنیا میں انسانیت کا شرف دوبارہ قائم کئے بغیر، انسانی قدروں کو بحال کئے بغیر ہم جو عالمی انصاف کی یا عالمی امن کی باتیں کرتے ہیں وہ صرف منہ کی باتیں ہیں، ان میں کوئی بھی حقیقت نہیں ہوتی۔اس سلسلہ میں بڑے دلچسپ پروگرام بنائے جا سکتے ہیں۔بڑے اچھے اچھے جلسے کئے جا سکتے ہیں اور ان جلسوں میں پسماندہ قوموں کے حقوق کے اوپر بھی بحث ہو سکتی ہے لیکن یہ