سلسلہ احمدیہ — Page 484
484 پسماندہ ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت وہاں جانوروں سے نچلی سطح پر بس رہی ہے اور بیشمار انسان ہے جو کہ سڑکوں پر پھیلا پڑا ہے۔وہیں رہتا ہے، وہیں سوتا ہے، وہیں جاگتا ہے، وہیں اپنی ضروریات پوری کرتا ہے۔اس پہلو سے بھی وہاں کوئی حیثیت نہیں جماعت کی جہاں دس دس پندرہ پندرہ لاکھ کے جمگھٹ میں سڑکوں پر بسنے والے وہاں جماعت کا نام ہی نہیں پہنچ سکتا، کوئی سُن ہی نہیں سکتا۔ان علاقوں میں جماعت کو رسائی نہیں ہے۔اور جہاں اتنی دنیا وی عظمتیں ہوں اور شانیں ہوں وہاں بھی جماعت کو کوئی حیثیت نہیں دی جاتی۔لیکن مجھے جور پورٹ کل ملی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلسل تین دن تک ٹیلی ویژن پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی تصویر اور پھر میرا پیغام اور تصویر کے ساتھ، پھر بار بار جماعت کے تذکرے، جماعت کے جو غیر معمولی کام میں بنی نوع انسان کی خدمت کے سلسلے میں، جماعت کے مقاصد کیا ہیں اور جماعت کے عقائد کا باقیوں سے فرق کیا ہے؟ کون سے اصول ہیں جن پر جماعت ہمیشہ سے قائم ہے؟ کیا کیا عظیم قربانیاں دیتی رہی ہے اور دیتی چلی جارہی ہے؟ یہ تمام باتیں بار بار دہرائی گئیں۔تو یہ رپورٹیں ہمیں بتا رہی ہیں کہ یہ خدا کے فضل کے ساتھ آسمان کی تحریک ہے۔انسانوں کا اس میں کوئی دخل نہیں۔افریقہ کے بعض ایسے ممالک جہاں سوائے ہماری دشمنی کے اور کوئی پراپیگنڈا کرنے کی اجازت نہیں تھی، جہاں ہمارے مبلغ کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑتی تھیں۔اوٹی سی بات کے اوپر ان کو جیلوں میں گھسیٹا جاتا تھا اور بہت ہی تکلیفیں دی جاتی تھیں، ایسے بھی بعض ممالک میں افریقہ میں اور اچانک وہاں کا یا پلٹ گئی ، فضا تبدیل ہو گئی۔اور ٹیلی ویژن تو وہاں نہیں ہے غالباً لیکن ریڈیو اور اخبارات نے بہت نمایاں طور پر جماعت کی خبریں نشر کرنا شروع کردیں۔یہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ساری دنیا میں جو تحریک چلی ہے یہ اللہ تعالی کے فضل کے نتیجے میں ہے۔جماعت کی کوششوں کا اگر کوئی دخل ہے تو صرف اتنا کہ جماعت درمندانہ دعائیں کرتی رہی۔سب سے پہلے تو میں آپ کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ تدابیر کو اختیار کرنا ہمارا فرض ہے، تدابیر کو حد امکان تک آگے بڑھانا اور کوشش کو اس کے