سلسلہ احمدیہ — Page 463
463 صد سالہ جشن تشکر کی تقریبات پر ایک طائرانہ نظر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ساری دنیا میں افراد جماعت نے جماعت احمدیہ کی دوسری صدی کا آغا ز حسب پروگرام نماز تہجد ( اور اکثر مقامات پر باجماعت نماز تہجد ) اور صدقات اور نوافل اور دعاؤں اور تسبیح و تحمید اور درود سے فضاؤں کو معطر کرتے ہوئے کیا۔کئی جماعتوں نے پہلی صدی کے آخری دن نفلی روزہ رکھا۔مساجد و جماعتی مراکز اور احمدی ہسپتالوں ، سکولوں اور دیگر جماعتی عمارات کے علاوہ افراد جماعت نے اپنے گھروں پر بھی چراغاں کیا اور انہیں جھنڈیوں اور خوبصورت بینرز سے سجایا۔ہمسایوں، دوستوں اور غیر از جماعت اور غیر مسلموں کو تحائف دیے۔شیرینی تقسیم کی۔کثرت سے ایسی دعوتوں کا اہتمام کیا جن میں خصوصیت سے غرباء اور یتیموں اور بے سہاروں کو بلایا گیا۔کئی جماعتوں نے جوبلی کی مناسبت سے کئی ایک خصوصی سونیر ز تیار کیے جو کثرت سے تقسیم کیے گئے۔پاکستان میں جہاں احمدیوں پر ہر قسم کی ناروا اور غیر انسانی پابندیاں تھیں وہاں بھی افراد جماعت نے حضرت خلیفہ اسیح کے ارشادات کے مطابق مسکراتے ہوئے اور سر بلند کر کے خوشی و مسرت کے اس تاریخی موقع کے مناسب حال پروگرام منعقد کیے۔کئی جگہوں پر شریف النفس معززین، مقامی سیاسی وسماجی رہنما اور ڈاکٹرز، وکلاء اور اہل علم و دانش ان پروگراموں میں شامل ہوئے اور جماعت احمدیہ کی خدمات اسلام و خدمت قرآن کو سراہا۔راولپنڈی (پاکستان) میں ایک عصرانہ میں ایک ایسی ہی تقریب میں ایک صحافی نے دوران تقریر کہا اور درست کہا کہ یہ جشن حضرت بانی کی صداقت کا ایک چمکتا ہوا نشان ہے۔“ کئی ممالک میں خصوصیت سے جو ہلی جلسے منعقد کیے گئے جن میں وہاں کے ممبران پارلیمنٹ، وزراء، دیگر سر کردہ سیاسی و سماجی شخصیات، مذہبی و غیر مذہبی رہنما اور مختلف مذاہب کے نمائندگان شامل ہوئے اور جماعت احمدیہ کی امن پسندی اور ملک وقوم کی خدمت اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نمایاں کردار کو سراہا۔کئی ممالک میں افراد جماعت نے مارچ پاسٹ کیے اور جلوس نکالے جو اللہ تعالیٰ کی تکبیر وتحمید اور