سلسلہ احمدیہ — Page 442
442 تیز تر ہوگئیں اور شریروں نے جماعت احمدیہ کی ترقی کو روکنے اور خلافت احمد یہ کو بزعم خود نابود کرنے کے نہایت مکروہ اور گھناؤنے منصوبے بنائے اور اس سلسلہ میں خصوصیت کے ساتھ پاکستان کے اُس وقت کے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے صدارتی آرڈینس نمبر 20 کے ذریعہ ایسے ظالمانہ اقدامات کئے کہ اگر یہ جماعت خدائے قادر و قیوم کی قائم کردہ اور اس کی حفاظت کے حصار میں نہ ہوتی تو کب کی فنا ہو چکی ہوتی۔لیکن خدا تعالیٰ نے ایک دفعہ پھر دشمن کے مکر اس پر الٹائے اور جو آگ اس نے احمدیوں کو جلانے کے لئے بھڑکائی تھی وہ خود اس کی لپیٹ میں آ گیا۔اور احمدیت کا قافلہ عہد خلافت رابعہ میں بھی نہایت اعزاز کے ساتھ اور بشاشت کے ساتھ راہ مولا میں ہر قسم کی قربانیاں دیتے ہوئے کامیابیوں کے ساتھ سر فراز ہوا۔1984ء میں حکومت پاکستان کے ظالمانہ آرڈینینس نمبر 20 کے نتیجہ میں جب حضرت خلیفة اصبح الرابع رحمہ اللہ کو پاکستان سے ہجرت کرنا پڑی اس کے بعد سے تو جماعت کی ترقی کی رفتار میں حیرت انگیز اضافہ ہوا۔دنیا بھر میں اشاعت اسلام تبلیغ و دعوت الی اللہ مختلف ممالک میں نئے مشن ہاؤسز اور تبلیغی مراکز کے قیام، صد سالہ جو ہلی تک کم سے کم سو ممالک میں جماعت احمدیہ کے نفوذ ، سوزبانوں میں قرآن کریم کے تراجم، مختلف زبانوں میں اسلام کے بنیادی تعارف اور قرآن مجید و احادیث نبویہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کی بکثرت اشاعت، مساجد کی تعمیر ، عالمی جماعت کی تعلیم و تربیت، بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود اور خدمتِ انسانیت کے مختلف منصوبوں پر جو کام ہوا اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید و نصرت کے روشن نشانوں سے ان مسائی کو مثمر ثمرات حسنہ بنایا اور قدم قدم پر دشمنان احمدیت کو ناکامیوں اور ذلتوں سے ہمکنار کیا، اس کا کسی قدر اندازہ اس کتاب کے مندرجات سے لگایا جا سکتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ صد سالہ جوبلی منصوبہ کا وہ پودا جو 1973ء میں لگایا گیا تھا وہ مخالفت کی تیز آندھیوں اور ہولناک طوفانوں کے باوجود محض خدا کے فضل سے اور اسی کی حفاظت میں اپنی سرسبزی و شادابی میں مسلسل بڑھا اور پھلا اور پھولا اور ایک عالم اس کے شیریں ثمرات سے فیضیاب ہوا۔