سلسلہ احمدیہ — Page 402
402 نہیں۔اس کے برعکس وہ لوگ جن کے ذاتی تعلقات تھے گمشدہ مولوی سے، جو شور مچارہے تھے کہ اس کی موت کا غم ہمیں بلاک کر رہا ہے۔جب تک ہم اس کے خون کا بدلہ نہ لے لیں ہمیں چین نہیں آئے گا۔اس کی زندگی کی خوشی کی خبر سنتے ہی ان پر موت طاری ہو گئی۔ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ہر طرف سوگ کا عالم ہو، جھوٹے کی یہ پہچان ہوا کرتی ہے اور اس طرح خدا بچوں اور جھوٹوں میں امتیاز کر کے دکھا دیا کرتا ہے۔آج جنرل ضیاء الحق صاحب کی موت پر جو یہ علماء صدمے کا اظہار کر رہے ہیں یہ وہی ہیں جو کل تک ان کو گالیاں دے رہے تھے۔اس لیے ان کے اس رد عمل نے بتا دیا کہ موت کا صدمہ نہیں ان کو اس بات کا صدمہ ہے کہ خدا کا ایک نشان احمدیت کے حق میں ظاہر ہو گیا۔اُس کی سیاہی ان کے چہروں پر پھر گئی ہے۔“ ( مخطبہ جمعہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع فرموده 19 اگست 1988ء - خطبات و طاہر جلد 7 صفر 560-561) اسی طرح آپ نے فرمایا: بہر حال یہ ایک ایسا عظیم الشان تاریخی نوعیت کا نشان ہے جس کے اوپر ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی نصرت ظاہر ہونے کے نتیجہ میں شکر واجب ہو گیا ہے اور یہ شکر خدا تعالی کی حمد کے ذریعہ ظاہر ہونا چاہئے۔“ خطبہ جمعہ حضرت خلیفہ اسح الرابع فرموده 19 اگست 1988ء۔خطبات طاہر جلد 7 صفحہ 563) مباہلہ سے متعلق ایک نئی صورت حال 13 نومبر 1988ء کو اہل سنت والجماعت برطانیہ نے کل یورپ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا اور حضرت امام جماعت احمدیہ کے مباہلہ کے چیلنج کے جواب میں ایک پمفلٹ بعنوان "مرکزی جماعت اہلسنت یو کے کی طرف سے دنیا بھر کے منکرین ختم نبوت، مرزائیوں، قادیانیوں، اور غلام احمدیوں کے سر براہ مرزا طاہر احد کا چیلنج مباہلہ ( محض اتمام حجت کے لئے ) قبول“ شائع کیا اور کثیر تعداد میں برطانیہ کے شمالی علاقوں میں تقسیم کیا گیا مگر جماعت احمدیہ کو اس کی کاپی یہ بھجوائی گئی۔مولوی احمد نثار بیگ صاحب قادری خطیب جامع مسجد مانچسٹر نے اس پمفلٹ میں اعلان کیا کہ :