سلسلہ احمدیہ — Page 13
13 تفصیل سے روشنی ڈالی اور بتایا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 1929ء کی مجلس شوری میں لجنہ اماء اللہ کی نمائندگان کو دعوت دی کہ وہ بولنا چاہیں تو بولیں۔چنانچہ پہلی تاریخی عورت جس نے اس مجلس شوریٰ میں حصہ لیا وہ استانی میمونہ تھیں جو لجنہ اماء اللہ کی بڑی ہی سرگرم رکن تھیں۔تاریخ احمدیت میں یہ وہ پہلی شوری تھی جس میں عورت نے براہ راست خطاب کیا۔دوسری وہ مجلس شوری تھی جو بیرونی ممالک کے نمائندگان پر مشتمل تھی اور جلسہ سالانہ کے موقع پر 30 دسمبر 1982ء کو ربوہ میں منعقد ہوئی جس میں بعض نمائندہ خواتین نے براہ راست اپنا مافی الضمیر پیش کیا تھا۔حضور نے فرمایا کہ یہ ( یعنی موجودہ شوری ) تاریخ احمدیت میں تیسری مجلس شوریٰ ہے اور آئندہ سے انشاء اللہ تعالی اسی طریق کو جاری رکھا جائے گا۔حضور نے مزید فرمایا کہ: اصل بات یہی ہے کہ خلیفہ وقت پابند ہے کہ وہ مشورہ لے اور حسب حالات جیسا کہ حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے محاکمہ فرمایا تھا خلاصہ کلام یہی بنتا ہے کہ یہ عقلی مسئلہ ہے۔حالات کے مطابق عورت کا مشورہ نئی نئی شکلیں اختیار کرتا چلا جائے گا۔صرف ایک پہلو یہ باقی رہ جاتا ہے کہ۔۔۔اس کو نمائندگی کس طریق پر دی جائے۔عورت سے مشورہ لینے کے لئے مجلس شوری میں کیا طریق اختیار کیا جائے۔میرے نزدیک اس کے لئے کسی تعداد کی تعیین کی ضرورت نہیں بلکہ خلیفہ وقت حسب حالات جتنی مستورات کو جس شکل میں نمائندہ کے طور پر بلانا چاہے وہ بلاتا رہے گا اور اس کے لئے کسی قاعدہ کی ضرورت نہیں۔“ چنانچہ اس کے بعد جماعت احمدیہ کی مجلس مشاورت میں یہ طریقہ کار رائج ہو گیا کہ خواتین اپنی رائے خود پیش کرتی ہیں اور اس طرز پر سب سے پہلے جس خاتون نے اپنی رائے پیش کی وہ حضرت مصلح موعود کی حرم حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صد لجنہ اماءاللہ مرکز تھیں اور آپ کے بعد حضرت خلیفتہ انتج الثالث کی حرم حضرت سیدہ آپاطاہرہ صدیقہ صاحبہ صدرالجنہ اماء الدر بہو نے اپنی رائے پیش کی۔الله بو برطانیہ میں جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی صدارت میں بعض سالوں میں انٹرنیشنل مجلس شوری کا انعقاد بھی ہوتا رہا۔