سلسلہ احمدیہ — Page 305
305 سویڈش تامل۔تلگو تھائی۔چوٹی (Twi)۔اردو۔ازبک خوزا (Xhoza) پیش(Yiddish)۔یورویا۔مسیح ہندوستان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کتاب میں خصوصیت سے مسیح ناصری علیہ السلام کی صلیبی موت سے نجات اور زندہ بجسد عنصری آسمان پر نہ اٹھائے جانے اور یروشلم کے علاقہ سے ہجرت اور طبعی زندگی گزار کر وفات پانے کے مسئلہ پر تفصیلی بحث کی ہے۔حضرت اقدس فرماتے ہیں:۔اس کتاب کا اصل مدعا مسلمانوں اور عیسائیوں کی اس غلطی کی اصلاح ہے جو ان کے بعض اعتقادات میں دخل پا گئی ہے۔۔۔۔کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ چلے گئے ہیں۔۔۔اور کسی وقت آخری زمانہ میں پھر زمین پر نازل ہوں گے اور ان دونوں فریق یعنی اہل اسلام اور مسیحیوں کے بیان میں فرق صرف اتنا ہے کہ عیسائی تو اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے صلیب پر جان دی اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر مع جسم عنصری چڑھ گئے اور اپنے باپ کے دائیں ہاتھ جابیٹھے اور پھر آخری زمانہ میں دنیا کی عدالت کے لئے زمین پر آئیں گے۔۔۔جب ہر ایک آدمی جس نے اس کو یا اس کی ماں کو بھی خدا کر کے نہیں مانا پکڑا جائے گا اور جہنم میں ڈالا جائے گا جہاں رونا اور دانت پیسنا ہوگا۔مگر مسلمانوں کے مذکورہ بالا فرقے کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے اور نہ صلیب پر مرے بلکہ اس وقت جبکہ یہودیوں نے ان کو مصلوب کرنے کے لئے گرفتار کیا۔خدا کا فرشتہ ان کو مع جسم عنصری آسمان پر لے گیا اور اب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں۔۔۔وہ آخری زمانہ میں دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دمشق کے منارہ کے قریب یا کسی اور جگہ اتریں گے۔۔۔اور بجز ایسے شخص کے جو بلا توقف مسلمان ہو جائے اور کسی کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔اور فرماتے ہیں: (مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 5، 6) اس کتاب کو ئیں اس مراد سے لکھتا ہوں کہ تا واقعات صحیحہ اور نہایت کامیل اور