سلسلہ احمدیہ — Page 257
257 ہندوستان میں تحریک شدھی کے خلاف اعلان جہاد 1922 ء ، 1923ء اور 1924ء کے دور میں جو مسلمانوں کے لئے ہندوستان میں ایک انتہائی دردناک دور تھا۔ملکانہ کے علاقہ میں ایک شدھی کی تحریک چلائی گئی تھی اور کثرت سے راجپوتوں کو یہ کہہ کر دوبارہ ہندو بنایا جارہا تھا کہ تمہارے آباؤ اجداد تو ہندو تھے اور تمہیں مسلمان بادشاہوں نے زبر دستی مسلمان بنا لیا تھا اس لئے تمہارا اصل مقام، تمہارا دائمی مقام ہندو سوسائٹی میں ہے اور اگر تم دوبارہ ہندو بن گئے تو تمہیں اور بہت سی ایسی مراعات حاصل ہو جائیں گی جو اس سے پہلے حاصل نہیں ہیں۔روپیہ کا بھی لالچ دیا گیا اور روپیہ خرچ بھی کیا گیا اور بعض جگہ جبر سے بھی کام لیا گیا اور ہندوؤں کی طرف سے اس علاقہ میں ایسے تنگ حالات کر دئیے گئے کہ بہت سے مسلمان مجبور ہو کر اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ پا کر ہندو ہونے شروع ہوئے۔اس وقت جماعت احمد یہ ہی کو یہ توفیق ملی کہ اس انتہائی خوفناک سازش کو بے نقاب کرے اور حضرت مصلح موعود خلیفتہ اسیح الثانی کو اللہ تعالی نے اس شدھی کی تحریک کے خلاف ایک انتہائی کامیاب جہاد شروع کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔تمام ہندوستان کے مسلمان علماء کو خطوط بھی لکھے گئے، وفود بھیج کر ان سے ملاقاتیں کی گئیں ، ان کی غیرت کو ابھارا گیا، ان کی حمیت کو اکسایا گیا، ان کی منتیں بھی کی گئیں، ان کو طرح طرح سے اسلام کی محبت کے واسطے دے کر اس بات پر آمادہ کیا گیا کہ اپنے وقتی اختلافات کو چھوڑ دو اور سارے مل کر اسلام کے خلاف اس انتہائی خوفناک سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہو جاؤ۔کچھ عرصہ تک یہ کام بہت اچھا چلا اور چونکہ اس وقت کے اہل بصیرت مسلمان علماء یہ سمجھتے تھے کہ جماعت احمد یہ جب تک اس تحریک میں مرکزی کردار ادا نہ کرے یہ تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی اس لئے انہوں نے جماعت احمدیہ کی تائید کی اور ہر طرح سے اس معاملہ