سلسلہ احمدیہ — Page 216
216 خلیفہ مسیح الرابع حمہ اللہ سےمسلسل ملاقاتوں اورسوال وجواب کی مجالس کے نتیجہ میں پانی احباب نے بیعت کی۔1994ء میں حضور پرنور کے ساتھ ان احباب کی انگریزی ، شین کی سوال وجواب کی مجالس منعقد ہوئیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی ہدایت کے مطابق 7 اپریل 1996ء کو منسک (Minsk) بیلاروس سے قازخستان کے پہلے مبلغ کے طور پر خواجہ مظفر احمد صاحب الماتا پہنچے۔آپ کے آنے پر یہاں پر باقاعدہ نظام جماعت قائم ہوا۔قازخستان میں جماعت کی رجسٹریشن کا کام 1997ء میں مکمل کیا گیا جس کے بعد کھل کر تبلیغ اسلام احمدیت کے فریضہ کو سر انجام دیا گیا۔یکم اپریل 1997ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی اجازت اور رہنمائی کی بدولت قازخستان کے اس وقت کے دارالحکومت لما تا کے رہائشی علاقہ بائیجا سووا (Baitasova) روڈ پر واقع 654 مربع گز قطعہ زمین جس پر ایک عمارت بھی تعمیر شدہ موجود تھی 38000 ڈالرز کے عوض جماعت احمدیہ قازخستان کے نام پر خرید کی گئی۔ایک رشین دوست سے خریدا گیا یہ مشن ہاؤس وقار عمل کے ذریعہ قابل استعمال حالت میں لایا گیا۔ضروری مرمت وغیرہ کروائی گئی اور یہاں جماعتی سرگرمیوں کا آغاز ایک نئے جوش و جذبہ کے ساتھ کر دیا گیا۔28 رستمبر 1998ء کو جماعت احمدیہ کی برانچ شہر چمکنت ، میں رجسٹرڈ کروائی گئی۔یہاں اس وقت محترم حسن طاہر بخاری صاحب بطور مبلغ موجود تھے جو ازبکستان کے نامساعد حالات کی وجہ سے جون 1998ء میں یہاں آئے تھے۔25 رستمبر 2002ء کو 22000 ڈالرز کے عوض مشن ہاؤس کے لئے 586 مربع گز جگہ بمعہ عمارت خرید کی گئی۔اس رقبہ میں دو عدد دو منزلہ عمارات پہلے سے موجود تھیں۔ان کے علاوہ مہلدی قرغان میں فروری 2002ء میں اور شمالی قازخستان میں سیمی پلا تنسک (Semiplatinsk) میں اپریل 2009ء میں مشن ہاؤس خریدنے کی توفیق حاصل ہوئی۔قازخستان میں دور خلافت رابعہ میں جلسہ سالانہ کرنے کی اجازت نہ ہونے کے باعث وہاں سے احباب جماعت کو اپنے خرچ پر جلسہ سالانہ یوکے میں شامل ہونے کی تحریک کی جاتی جس پر مختلف سالوں میں دسیوں احمدی، غیر احمدی اور غیر مسلم افراد بھی شامل ہوتے رہے۔حضرت خلیفہ اسیح سے