سلسلہ احمدیہ — Page 108
108 طور پر منایا جائے۔اس کے نتیجہ میں دنیا بھر میں مساجد اور مراکز نماز اور مشن ہاؤسز کے قیام کی طرف غیر معمولی توجہ ہوئی۔اور ہر آنے والے سال میں مسلسل جماعتی مساجد کی تعمیر میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ بہت سے مقامات پر جماعت کو بنی بنائی مساجد عطا ہوئیں کیونکہ کامیاب تبلیغ کے نتیجہ میں پورا گاؤں یا گاؤں کی اکثریت اپنے اماموں کے ساتھ احمد کی ہوئی اور یوں بنی بنائی مساجد جماعت کو عطا ہوئیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے مساجد میں اس طرح بھی وسعت عطا فرمائی کہ بعض بہت وسیع رقبے پر مشتمل نہایت خوبصورت اور عظیم الشان مساجد کی تعمیر کی توفیق جماعت کو عطا فرمائی۔ان مساجد کی تعمیر کے دوران اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے بہت ہی ایمان افروز واقعات بھی ظاہر ہوئے۔مساجد کی تعمیر کے لئے قربانیاں پیش کرنے والوں کے ایمان و اخلاص اور قربانی کے بے نظیر واقعات بھی رونما ہوئے اور مساجد کی تعمیر میں روکیں ڈالنے والے مخالفین کی ذلت و رسوائی کے عبرتناک نشانات بھی ظاہر ہوئے۔یہ بھی ایک طویل اور دلچسپ اور رُوح پرور تفصیل ہے اور تاریخ احمدیت کا ایک نہایت ہی روشن باب ہے۔ذیل میں عہد خلافت رابعہ میں تعمیر ہونے والی بعض اہم اور بڑی مساجد و مراکز نماز کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے۔بالخصوص ایسی مساجد مراکز نماز کا جن کا سنگ بنیاد حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے رکھا یا آپ نے ان کا افتتاح فرمایا۔یا حضور رحمہ اللہ کے عہد خلافت میں کسی ملک میں پہلی مسجد کا قیام عمل میں آیا۔عہد خلافت رابعہ میں پاکستان میں 20 کے قریب مساجد شہید کی گئیں۔لست 1987 ء میں بیت النور ہالینڈ کو بعض شریر اور شر پسند عناصر نے جلانے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور قیمتی دستاویزات اور اشیاء ضائع کر دیں۔اس واقعہ کا ذکر کر کے حضور نے 21 / اگست 1987ء کے خطبہ جمعہ میں ہالینڈ کی مسجد کو دس گنا بڑا بنانے کا اعلان کیا اور 18 رستمبر 1987ء کے خطبہ جمعہ میں منہدم شدہ مساجد کی مرمت اور از سر نو تعمیر کے لئے فنڈ کی تحریک کی اور فنڈ کا قیام اپنی طرف سے ایک ہزار پونڈ کی رقم کا وعدہ فرما کر کیا۔