سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 740 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 740

740 اکثر و بیشتر ایسے کانوں میں پڑتے ہیں جن کو ان باتوں میں بنیادی طور پر کوئی دلچسپی نہیں۔“ حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: م امر واقعہ یہی ہے کہ اس وقت مغربی دنیا کو تبدیل کرنے کے لئے دلائل کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خود ایک دلیل بننے کی ضرورت ہے۔خود خدائما ہونے کی ضرورت ہے۔آپ کے اندرا ہی صفات پائی جانی چاہئیں۔آپ کے اندر وہ قوت پیدا ہونی چاہئے جو خدا سے تعلق کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ انسان کے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی صلاحیتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔“ حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: ان میں سے ہر ایک کے اپنے مسائل ہیں ان میں سے کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ دعا ایک طاقت ہے اور دعاؤں کے ذریعے ہی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ان کے اندر اچھی انسانیت کی جستجو ہے۔ان کو یہ علم نہیں کہ اچھی انسانیت مذہب سے عطا ہوتی ہے۔بلکہ اس کے برعکس یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب انسانیت کے برے نمونے پیش کرتا ہے۔ایسے ایک لمبے دور سے یہ خود گزرے ہوئے ہیں۔جہاں عیسائیت کے راہنماؤں نے ان کے سامنے بد اثرات چھوڑے اور جس طرح ہمارے ملک میں ملاؤں کے خلاف مذاق ہوتے ہیں ان کے متعلق دلچسپ قصے سنائے جاتے ہیں، ان کی منافقت کے بارہ میں لطائف بیان کئے جاتے ہیں۔اس طرح کا ایک ایسا دور تھا جب عیسائیت کے راہنماؤں سے متعلق بھی یہی باتیں ہوتی تھیں اور بہت سے لطائف مشہور تھے کہ یہ ہمارے مذہبی راہنما ہیں، یہ ان کے اخلاق ہیں اور یہ ان کے کردار ہیں۔پھر ان کے تعصبات، ان کی تنگ نظری سخت مزاجی ان سب باتوں نے مل کر اہل مغرب کو رفتہ رفتہ مذہب سے دور کرنا شروع کیا۔پس ان کے ہاں جو مذہب کا تصور ہے وہ انسانیت کے مقابل پر ہے۔یہ سمجھتے ہیں کہ انسانیت اور انسانی قدریں ایک چیز ہیں اور مذہب اور مذہبی قدریں اس کے مد مقابل دوسری چیز ہیں اور جتنا انسان مذہبی ہوتا چلا جائے گا اتنا اس کا کردار اجنبی اور کھوکھلا اور مصنوعی ہوتا چلا جاتا ہے اور اس میں ایسی خوبصورت کشش نہیں پائی جاتی جس کے ذریعہ انسان اس سے متاثر ہوں۔تو دراصل عام انسانی قدروں کی طرف بڑھنے کے نتیجے میں