سلسلہ احمدیہ — Page 728
728 کتاب کی تقریب رونمائی ختم ہونے پر تمام مہمان دوسرے بڑے ہال میں مدعو کئے گئے جہاں جماعت احمدیہ کے صد سالہ جشن تشکر کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی ساڑھے سات بجے ہال میں تشریف لائے۔اسٹیج پر وفاقی اور صوبائی پارلیمنٹ کے اراکین، دانشور، بعض شہروں کے میئرز، ممتاز صحافی حضور کے ساتھ تشریف فرما ہوئے جن کی تعداد ستائیں تھی۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔اس کے بعد پارلیمنٹ کینیڈا کے معزز ممر عزت مآب Maurizio Bevilacqua نے معزز ممبران پارلیمنٹ، دانشوروں اور ممتاز صحافیوں کا تعارف کروایا۔اس کے بعد مس ساگا کی میٹر عزت مآب Hazel McCallion نے خطاب کیا۔دیگر امور کے ساتھ انہوں نے حضور رحمہ اللہ کی خدمت میں اپنے شہر میں مسجد بنانے کی بھی درخواست کی۔وان شہر کے ڈپٹی میئر نے حضور رحمہ اللہ کو اپنے شہر کی چابی پیش کی۔آپ نے جماعت احمدیہ کے وان شہر میں خوبصورت مسجد مسجد بیت الاسلام“ بنانے کے فیصلہ پر مسرت کا اظہار کیا۔ان کے بعد بریمپٹن کے میئر نے حضور رحمہ اللہ کی خدمت میں کینیڈا کا قومی نشان Maple Leaf پیش کیا۔مارکھم شہر کی میر نے حضور رحمہ اللہ کی خدمت میں مارکھم شہر کی فریم شدہ شہریت پیش کی۔اسی طرح اور کئی معز مہمانوں نے اپنے نیک جذبات کا اظہار کیا۔ان کے بعد حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے ایک بہت ہی ولولہ انگیز خطاب فرمایا جو کینیڈا کی سرزمین پر احمدیت کی پہلی صدی کی جو بلی کا اہم ترین اور تاریخی خطاب تھا۔حضور نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ: در مجھے جو ایک شہر کی چابی دی گئی ہے یا کینیڈا کا قومی نشان پیش کیا گیا ہے، اس میں صرف اسی قدر تو خرچ ہوا لیکن اس کے ساتھ جو محبت لیٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ گرم جوشی کے جو جذبات مجھے ملے ہیں میں ان سے مغلوب ہو چکا ہوں۔آپ ان جذبات محبت کا تصور بھی نہیں کر سکتے جوئیں واپس اپنی عارضی قیامگاہ، لندن اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا۔