سلسلہ احمدیہ — Page 708
708 10 ستمبر کو کلمنجارو ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس ہوئی جس میں دورہ افریقہ کی غرض و غایت، افریقہ کے حالات کا تجزیہ اور افریقہ کے حالات کے مشاہدہ پر مبنی اپنے تاثرات بیان فرمائے۔حضور نے فرمایا کہ افریقہ میں بھی اخلاقی قدریں بڑی تیزی سے ختم ہورہی ہیں۔جب تک اخلاقی قدریں قائم نہ کی جائیں گی اس وقت تک حقیقی امن کے قیام میں کامیابی ممکن نہیں۔اسی شام عشائیہ کی تقریب میں تنزانیہ کے منسٹر آف انرجی، مختلف حجز ، وکلاء، ڈاکٹرز، کمشنر آف لیبر اور کئی معززین و سرکردہ افراد نے شرکت کی۔حضور نے اس موقع پر خطاب میں فرمایا کہ افریقہ کے لئے جو بات ضروری ہے وہ یہ ہے کہ افریقہ اپنی شناخت کو سمجھنے کی کوشش کرے۔آج افریقہ کے ہر ملک میں ایک چھوٹا افریقہ تراشا جارہا ہے اور ملک کے تمام ذرائع ، اس کی اقتصادیات، غیر ملکی امداد اور صنعتی ترقی کے کام یہ سب کچھ اس کے ایک چھوٹے سے طبقہ کے مغربی طرز کا معیار زندگی قائم رکھنے پر خرچ ہورہے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ آپ کے دل میں اپنے لوگوں کی خدمت اور ان کی دلچسپی اور بہبودی کا جذبہ ہونا چاہئے۔حضور نے مشورہ دیتے ہوئے فرمایا کہ بیرونی آئیڈیالوجیز کو کی اور اپنے اندر داخل نہ ہونے دیں اور پورے وثوق اور نیک نیتی کے ساتھ اور اخلاص کے ساتھ اپنے لوگوں کی خدمت میں لگ جائیں اور polarization کو ختم کریں۔حضور نے فرمایا کہ اگر تمام افریقن ممالک ایک ہی سمت میں سوچنا شروع کر دیں تو یہ بہت بڑی طاقت ہو سکتی ہے۔14 رستمبر 1988ء کو تنزانیہ کے وزیر اعظم سے نہایت خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ملاقات ہوئی جو قریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔حضور نے بتایا کہ جماعت احمد یہ ایک مذہبی جماعت ہے جو بنی نوع انسان کی خدمت پر کمربستہ ہے۔اس موقع پر جماعت کی طرف سے مختلف زبانوں میں شائع شدہ تراجم قرآن کریم کا تحفہ وزیر اعظم کو دیا گیا۔قیام ماریشس کے دوران 18 ستمبر کو New Grove میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا اور ملٹری کواٹرز میں مسجد طاہر کا افتتاح فرمایا۔