سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 579 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 579

579 میں خوشیوں والا اپنی خوشیوں میں دوسرے کو شریک کرے اور کسی کا دکھ اس طرح ہائے کہ اس کے دکھ میں کمی واقع کرے۔اس کی سچی ہمدردی محسوس کرے اور غریبوں کے ساتھ اپنی خوشیاں ملا دے۔ان کی خوشیوں کا معیار بلند کر دے خواہ اس میں اپنی خوشیاں کچھ کم ہی کرنی پڑیں۔اس نصیحت کو جماعت نے بہت ہی عمدہ طریقے پر قبول فرمایا اور ساری دنیا میں ہماری عید کی خوشیوں کے ساتھ یہ مضمون داخل ہوا۔بہت سے لوگ بعد میں بھول گئے لیکن بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے اس کو یاد رکھا ہوا ہے اور اکثر عید کے بعد مجھے خطوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جولوگ بھی اس نصیحت کو یا در کھے ہوئے ہیں اور اس پر مستقل عمل کر رہے ہیں ان کی عید عام عیدوں کے مقابل یادر پر بہت ہی زیادہ پُر لطف اور عظیم روحانی کیفیات کی حامل ہو جاتی ہے اور ہمیشہ لکھنے والے لکھتے ہیں کہ جب ہمیں یہ بات یاد آتی ہے اور تلاش کر کے محلے والوں کے پاس پہنچتے ہیں، اپنی خوشیاں غریبوں کی خوشیوں میں ملانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے بچوں کے لئے کوئی تحفہ لے کر جاتے ہیں، گھر میں کوئی اچھا کھانا پہنچا دیتے ہیں تو وہ جو کیفیت ہم دیکھتے ہیں وہ ایک ایسی عظیم جزا ہے کہ اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔دنیا کی کوئی دوسری لذت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔“ ڈور کے ملکوں میں پھیلے ہوئے غریبوں میں عید کے موقع پر تخالف پہنچانے کی تحریک 1999ء میں حضور نے غربا کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کی تحریک میں ایک اضافہ کیا اور 19 جنوری 1999ء کے خطبہ عید الفطر میں فرمایا: عید کی خوشیوں کو کس طرح منایا جاتا ہے؟ اس سلسلہ میں میں نے گزشتہ سال جماعت کو نصیحت کی تھی کہ غریبوں کی عید بنائیں اور اپنی عید منائیں۔جب آپ غریبوں کی عید بنائیں گے تو اللہ آپ کی عید بنادے گا اور بچی عید کی خوشی تبھی نصیب ہو گی جب آپ غریبوں کے دکھ درد میں شامل ہو جائیں اور جہاں تک خدا توفیق عطا فرماتا ہے ان کی عید بنانے کی کوشش کریں۔اسی ضمن میں اس سال ایک نئی تحریک میں نے یہ کی تھی کہ عیسائی دنیا عیسائی بچوں کو اپنے کرسمس کے تھنے بھیج رہی ہے۔اگر چہ ہم اس طرح تھے بنا بنا کر تو نہیں دیتے مگر اس سے بہت زیادہ بنی نوع انسان کی خدمت اس رنگ میں کر رہے ہیں کہ ہم گھر گھر جاتے ہیں اور اپنے ماحول