سلسلہ احمدیہ — Page 521
521 اس سلسلے میں جو اہم کردار حضرت مولوی ظہور حسین صاحب نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ادا کیا وہ تاریخ میں دہرانی چاہتا ہوں تا کہ روس کے تعلق میں ابتدائی خدمت کے وہ واقعات بھی آپ کے سامنے آجائیں اور اس مجاہد اول مولوی ظہور حسین صاحب کے لئے اور ان کے لئے جو اُن کے ساتھ شامل ہوئے تھے دعا کی بھی تحریک ہو۔انہوں نے روس سے واپس آنے کے بعد کچھ عرصہ تو ایسی حالت میں گزارا کہ ان کو اپنے دماغ پر کوئی کنٹرول نہیں تھا۔اتنا شدید ان کو وہاں عذاب دیا گیا، ایسی تکلیفیں دی گئیں کہ اس کے نتیجے میں وہ اپنے حواس کھو بیٹھے تھے۔جب ان کو ترکی کی سرحد سے پار پھینک دیا گیا تو اتفاق سے کسی نے اندازہ لگا کر کہ یہ ہندوستانی ہے، ان کو برٹش ایمیسی میں پہنچا دیا اور چونکہ وہ پاگل پن کی حالت میں بھی قادیان قادیان، بار بار کہتے تھے اس لئے کسی برٹش آفیسر کو یہ معلوم ہو گیا کہ یہ ہندوستان کے شہر قادیان کا رہنے والا ہے۔چنانچہ انہوں نے جماعت سے تعلق قائم کیا اور پھر ان کو وہاں بھجوا دیا گیا۔یہ وقتی دور جو بد حواسی کا تھا یہ زیادہ لمبا عرصہ نہیں چلا۔لیکن وہ جو تعذیب کے نشانات تھے وہ ساری عمر بدن پر قائم رہے اور جو ہم نے بھی بچپن میں بارہ دیکھے۔سارے جسم پر جھلسنے کے اور تکلیفوں کے آثار باقی رہے تھے۔مولوی ظہور حسین صاحب نے بعد میں ایک بہت لمبا عرصہ جماعت احمدیہ کی مختلف حیثیتوں سے خدمت کی اور ایک کتاب ” آپ بیتی“ کے نام سے شائع کی جس میں مختصر اروس کے واقعات کا ذکر ہے۔اس کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ جولائی 1924ء میں آپ دو دیگر مبلغین محمد امین خاں صاحب اور صاحبزادہ عبدالمجید صاحب رضی اللہ تعالی عنہ صحابی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ روس کے سفر پر روانہ ہوئے۔عبدالمجید صاحب کو تو رستے میں ایران میں ٹھہر جانا تھا کیونکہ وہ ایران کے لئے مبلغ مقرر ہوئے تھے اور محمد امین خان صاحب اور مولوی ظہور حسین صاحب کے سپرد یہ کام تھا کہ یہ۔۔جس طرح بھی بس چلے ایران کی طرف سے روسی سرحد پار کر کے روس میں داخل ہو جائیں۔مولوی ظہور حسین صاحب مشہد میں بیمار ہو گئے اور وہاں رکنا پڑا۔مولوی محمد امین صاحب کچھ انتظار کے بعد اکیلے ہی سفر پر روانہ ہو گئے اور بخیریت بخارا پہنچ گئے۔