سلسلہ احمدیہ — Page 452
452 مگر انتہائی ترقی یافتہ نظام عطا کرتا ہے جو اس کے تمام اقتصادی، تمدنی اور معاشرتی مسائل کا موثر حل اپنے اندر رکھتا ہے۔اسلام ایک ایسا سیاسی نظریہ دنیا کو عطا کرتا ہے جس میں جھوٹ اور فریب دہی کی کوئی گنجائش نہیں اور ایسے کامل عدل کی تعلیم دیتا ہے جو انفرادی، قومی اور گروہی مصالح سے بالاتر ہے۔اور دوست دشمن کے حقوق کو مساوی میزان سے تولتا ہے۔جماعت احمد یہ ایمان رکھتی ہے کہ یہی دین ہے جو صلاحیت رکھتا ہے کہ آج تمام اقوام عالم کو ایک ہاتھ پر جمع کرے اور توحید کی لڑی میں پرو دے۔پس میں اس اہم اور مبارک موقعہ پر بحیثیت امام جماعت احمدیہ مسلمہ عالمگیر روئے زمین پر بسنے والے اپنے تمام انسان بھائیوں کو اسی دین امن اور دین توحید کی طرف دل کی گہرائی اور پر خلوص جذبہ انتقوت کے ساتھ بلاتا ہوں۔ہر چند کہ احمدیت بادی النظر میں ابھی ایک ایسی قوت کے طور پر نہیں اُبھری جو ایک عالمی انقلاب بر پا کرنے کی قدرت رکھتی ہو لیکن ہر صاحب بصیرت یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا کہ گزشتہ ایک سو سال میں شدید مخالفتوں کے باوجود اس جماعت کی حیرت انگیز عالمی ترقی کوئی ایسا معمولی واقعہ نہیں جسے نظر انداز کیا جاسکے۔اس عرصہ میں جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے دُنیا کے 120 ممالک میں قائم اور مستحکم ہو چکی ہے اور اس کی ترقی کی رفتار لحظہ بہ لحظہ تیز سے تیز تر ہوتی چلی جارہی ہے اور اس جماعت کے حق میں وہ سب کچھ رونما ہو رہا ہے، جس کا ایک سو سال پہلے انسانی تخمینوں کے لحاظ سے کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔پس یقیناً وہ خدا کی ہی آواز تھی جس نے اس جماعت کے مستقبل کے بارہ میں بائی کو ان الفاظ میں خبر دی :۔میں اپنی چہکار دکھلاؤں گا۔اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔دنیا میں ایک نذیر آیا۔پر دُنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ میں تیری تبلیغ کوزمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔“ انہیں الہی بشارات سے روشنی اور قوت پا کر بانی نے بنی نوع انسان کو یہ عظیم خبر دی کہ :۔قریب ہے کہ میں ایک عظیم الطحان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور