سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 386 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 386

386 آنے والا ہر دن، ہر مہینہ اور ہر سال احمدیت کی صداقت کو روشن سے روشن تر کرنے والا ثابت ہوا۔یہ مضمون بھی بہت طویل اور حد درجہ ایمان افروز ہے۔اس کتاب میں صرف بعض پہلوؤں سے احمدیت کی ترقی کا اختصار کے ساتھ ذکر کیا جارہا ہے۔اور احمدیت کی حقانیت کو ثابت کرنے والے لا تعداد نشانوں میں سے بعض کا تذکرہ ہدیہ قارئین ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہو خوف کر دگار مباہلہ کے نتیجہ میں دشمنوں کو ذلیل ورسوا کرنے والا ایک حیرت انگیز نشان مینہ مقتول اسلم قریشی کی زندہ سلامت واپسی مباہلہ کے چیلنج میں حضرت خلیفتہ امسح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے اوپر لگائے جانے والے اس الزام کا خاص طور پر ذکر فرمایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ آپ اسلم قریشی نامی ایک شخص کے اغواء اور قتل میں ملوث ہیں ( نعوذ باللہ )۔حضور نے اس الزام کا معین طور پر ذکر کرتے ہوئے اور اسے سراسر جھوٹ اور افتراء قرار دیتے ہوئے لَعْنَةُ الله عَلَى الْكَاذِبِینَ کی دعا کی تھی۔اللہ تعالی کی یہ شان ہے کہ ابھی اس مباہلہ کے چیلنج کو ایک ماہ ہی گزرا تھا کہ اسلم قریشی نام وہ شخص جس کے قتل کا الزام بحیثیت سربراہ جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ اسیح الرابع ( رحمہ اللہ) پر لگایا جاتا تھا اور ساری را جماعت کو اس پر متہم کیا جاتا تھا زندہ سلامت ایران سے کوئٹہ ( پاکستان ) پہنچ گیا۔حضرت خلیفۃ أسبح الرابع رحمہ اللہ نے جلسہ سالانہ یو کے 1988ء کے موقع پر 22 جولائی کو اپنے افتتاحی خطاب میں اسلم قریشی کی واپسی اور مخالفین پر مباہلہ کی اس زبردست مار اور ان کے جھوٹ اور افتراء کا پردہ فاش ہونے کا ذکر کرتے ہوئے اسے خدا تعالی کا ایک حیرت انگیز نشان قرار دیا جس نے دشمنوں کو رسوا اور ذلیل کر دیا۔“ یہ اسلم قریشی وہی شخص ہے جو اسلام آباد (پاکستان) میں ایک لفٹ آپر میر تھا۔جس نے صاحبزادہ