سلسلہ احمدیہ — Page 15
15 احمدیوں پر ہونے والے مظالم (2003, 1982) ایک جائزہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔قدیم سے برگزیدہ لوگوں کے ساتھ سنت اللہ ہے کہ وہ ورطہ عظیمہ میں ڈالے جاتے ہیں۔لیکن غرق کرنے کے لئے نہیں بلکہ اس لئے کہ تا ان موتیوں کے وارث ہوں جو دریائے وحدت کے نیچے ہیں۔اور وہ آگ میں ڈالے جاتے ہیں۔لیکن اس لئے نہیں کہ جلائے جائیں بلکہ اس لئے کہ تا خدا تعالیٰ کی قدرتیں ظاہر ہوں۔اور ان سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے اور لعنت کی جاتی ہے۔اور وہ ہر طرح سے ستائے جاتے اور دکھ دیئے جاتے اور طرح طرح کی بولیاں ان کی نسبت بولی جاتی ہیں۔اور باطنیاں بڑھ جاتی ہیں۔یہاں تک کہ بہتوں کے خیال و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ وہ بچے ہیں بلکہ جو شخص ان کو دکھ دیتا اور لعنتیں بھیجتا ہے وہ اپنے دل میں خیال کرتا ہے کہ بہت ہی ثواب کا کام کر رہا ہے۔پس ایک مدت تک ایسا ہی ہوتا رہتا ہے۔اور اگر اس برگزیدہ پر بشریت کے تقاضا سے کچھ قبض طاری ہو تو خدا تعالی اس کو ان الفاظ سے تسلی دیتا ہے کہ صبر کر جیسا کہ پہلوں نے صبر کیا اور فرماتا ہے کہ میں تیرے ساتھ ہوں ، سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔پس وہ صبر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ امر معذر اپنے بات مقررہ تک پہنچ جاتا ہے۔تب غیرت الہی اس غریب کے لئے جوش مارتی ہے اور ایک ہی تجنی میں اعداء کو پاش پاش کر دیتی ہے۔سوال نوبت دشمنوں کی ہوتی ہے اور اخیر میں اس کی نوبت آتی ہے۔اسی طرح خداوند کریم نے بارہا مجھے سمجھایا کہ ہنسی ہو گی اور ٹھٹھا ہو گا اور لعنتیں کریں گے اور بہت ستائیں گے لیکن آخر