سلسلہ احمدیہ — Page 362
362 اسی طرح آپ نے 10 جون 1988ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا: دو گزشتہ چند سالوں میں جماعت احمدیہ کے معاندین اور مخالفین اور مکڈ بین نے، خصوصاً علماء کے اس گروہ نے جو ائمۃ التکفیر کہلانے کے مستحق ہیں ظلم اور افتراء اور تکذیب اور استہزاء اور تخفیف اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تذلیل کرنے کی کوشش میں تمام حدیں توڑ دیں ہیں اور انسانی تصور میں جتنی بھی حدیں ممکن ہیں شرافت اور نجابت کی، ان سب سے تجاوز کر گئے ہیں۔اور مسلسل پاکستان میں ہر روز کوئی نہ کوئی جھوٹ اور افتراء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت پر گھڑا جاتا ہے اور علی الاعلان کھلے بندوں اس کذب اور افتراء کا کثرت کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے اور تشہیر کی جاتی ہے۔کوئی ان کو روکنے والا بظا ہر نہیں۔ان شریروں کی مدد پر حکومت بھی کھڑی ہے اور دوسرے صاحب استطاعت اور صاحب اقتدار لوگ بھی ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔عوام الناس کی اکثریت شریف ہے مگر شرافت کی زبان گونگی اور کمزور ہے اور ان کو جرآت اور حوصلہ نہیں کہ اس کذب وافتراء اور تعدی اور ظلم کے خلاف آواز بلند کر سکیں کجا یہ کہ سینہ سپر ہو کر اس کی راہ روک دیں۔یہ معاملہ اب اس قدر حد سے تجاوز کر چکا ہے اور اس طرح جماعت احمدیہ کے سینے چھلنی ہیں اور اس طرح ان کی روحیں اس کذب و افتراء کی تعفن سے بیزار ہیں اور متلارہی ہیں اور اس طرح اپنی بے بسی پر وہ خدا کے حضور گریہ کناں ہیں اور کوئی دنیا کے لحاظ سے ان کی پیش نہیں جاتی۔ان کے دلوں کی آواز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس مصرعہ کی مصداق ہے کہ حیلے سب جاتے رہے اک حضرت تو اب ہے پس اب ظلم کی اس انتہا کے بعد باوجود اس کے کہ بار بار اس قوم کو ہر رنگ میں سمجھانے کی کوشش کی۔اب میں مجبور ہو گیا ہوں کہ مکھرین اور منکر بین اور ان کے سربراہوں اور ان کے ائمہ کو قرآن کریم کے الفاظ میں مباہلہ کا چیلنج دوں یا کہنا چاہئے کہ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق حق و صداقت میں امتیاز پیدا کرنے کی خاطر مباہلہ کا چیلنج دوں۔۔۔۔۔یہ معاملہ اس حال کو پہنچ چکا ہے اور جماعت احمدیہ کی پہلی صدی بھی جو کہ اختتام کو پانچ رہی ہے اس لئے تمام احمدیوں کے دکھ اور بے قراری اور مسلسل صبر کی آہوں سے مجبور ہو کر