سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 258 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 258

258 میں جماعت سے تعاون بھی کیا بلکہ حضرت مصلح موعودؓ کو خطوط لکھ کر کھلم کھلا اس بات کا بھی اقرار کیا کہ اگر آپ نے اس تحریک کی پشت پناہی نہ کی اور بھر پور حصہ نہ لیا تو ہمیں ڈر ہے کہ یہ تحریک مر جائے گی۔یہ تاریخ کی باتیں ہیں اور مختلف اخبارات اور رسائل اور کتب کی زینت بن چکی ہیں۔بیسویں صدی عیسوی میں اسی کی دہائی میں ہندوستان میں دوبارہ ایک نہایت ہی خوفناک شدھی کی تحریک شروع کی گئی اور وہی ملکانہ کا علاقہ اس کے لئے منتخب کیا گیا اور اس دفعہ غالباً ہندوستان کے بعض انتہا پرست ہندوؤں کو جن میں آریہ بھی پیش پیش تھے یہ شہ تھی کہ وہ جماعت جو اس معاملے میں اسلام کا فقال دفاع کر سکتی تھی، جو مسلسل بے خوف قربانیاں دے سکتی تھی ، اس کی اکثریت تو یہاں سے ہجرت کر کے پاکستان جا چکی ہے اور پاکستان میں وہ خود ایسے مصائب میں مبتلا ہے کہ اسے اس بات کی ہوش ہی نہیں ہوسکتی کہ ہندوستان کی سرزمین میں آکر یہاں اس شدھی کی تحریک کے خلاف کسی جہاد کا آغاز کرے۔اور جہاں تک ہندوستان کی جماعتوں کا تعلق ہے وہ جانتے ہیں کہ اس زمانے کی نسبت جب یہ شدھی کی تحریک انیس سو بائیس ہمیں ، چوبیس کے سالوں میں آغا ز پائی اور پھر انجام کو پہنچی۔اس زمانے میں ہندوستان میں جماعت کو جو طاقت حاصل تھی اب اس کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں ہے۔اس وجہ سے بھی ان کی حوصلہ افزائی ہو گئی۔(ماخوذ از خطبہ جمعہ حضرت خلیفہ مسیح الرابع فرموده 22 اگست 1986ء۔خطبات طاہر جلد 5 صفحہ 562561) لیکن جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں وعدہ ہے کہ اس نے تمکنت دین کو خلافت سے وابستہ فرمایا ہے اس صورتحال کے مقابلہ کے لیے خلافت احمد یہ ہی میدان عمل میں اتری اور حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے شدھی کی اس تحریک کو کا فوری نوٹس لیا اور اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کے لئے ایک زبرست جہاد کا اعلان فرمایا۔ظاہر ہے کہ یہ جہاد توپ و تفنگ اور مہلک ہتھیاروں کے ساتھ نہیں بلکہ اسلامی تعلیم کے عین مطابق اور جماعت احمدیہ کی عظیم الشان روایات کو قائم رکھتے ہوئے قیمت و برہان اور بنی تعلیم وتربیت کے ساتھ کیا گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے شدھی کی اس تحریک کے مقابلہ کا اعلان کرتے ہوئے فرمايا: