سلسلہ احمدیہ — Page 242
242 حضرت خلیفہ امسح الثالث کے حکم پر مولانا صدیق احمد منور صاحب ماریشس سے زائر کے دورے پر گئے۔آپ نے ایک ماہ (2 جون تا 5 جولائی 1982 ء) زائر موجودہ کونگو کنشاسا کا دورہ کیا۔آپ کچھ دن کنشاسا ٹھہرنے کے بعد صوبہ کسائی اوکسی ڈینٹل کے صوبائی دارالحکومت Kananga ( کانالگا) کے دورے پر تشریف لے گئے۔یہاں آپ نے ایک احمدی مکرم محمد اسماعیل Mukanya (مکانیا) صاحب کے ہاں تین ہفتے قیام کیا، پھر کنشاسا گئے اور مشن کے قیام کا جائزہ لینے کے بعد واپس ماریشس چلے گئے۔بعد ازاں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کے ارشاد پر زائر کے پہلے با قاعدہ مبلغ کے طور پر آپ جون 1984ء میں زائر پہنچے۔ابتدا میں آپ کا قیام مکرم عثمان کلونجی (Kalunji) صاحب کے ہاں رہا۔ان کے گھر سات ماہ رہ کر جماعت کی تعلیم و تربیت کی اور تبلیغی سرگرمیاں بھی انجام دیں۔مکرم عثمان کلونجی صاحب کے تعاون اور تبلیغ سے بعض اور لوگوں نے احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔اس بار مولانا موصوف کی زائر آمد کے بعد سب سے پہلی بیعت کنشاسا کے ایک پروٹسٹنٹ نو جوان Mr۔Nandu نے کی۔ان کا اسلامی نام طاہر رکھا گیا۔بیگھر کنشاسا میں پہلا تبلیغی و تربیتی سینٹر بنا۔1984ء کے آخر میں جماعت کی رجسٹریشن کے لئے کوشش شروع کی گئی۔1987ء میں دار الحکومت کنشاسا کی سٹی کونسل نے صوبہ کنشاسا میں تبلیغی سرگرمیوں کی اجازت دی۔اپریل 1987ء میں اللہ تعالی نے جماعت کو اپنے نیشنل ہیڈ کوارٹر کے لئے شہر کے ایک علاقہ میں عمارت خریدنے کی توفیق عطا فرمائی۔یہ وہی عمارت تھی جس میں گزشتہ تین سال سے کرائے پر مشن قائم تھا۔یہ عمارت چالیس ہزار امریکن ڈالرز میں خریدی گئی۔احمد یہ مرکز کی خرید کے بعد جماعتی سرگرمیوں میں تیزی اور وسعت پیدا ہوگئی۔کنٹا سا میں دو سکولوں کا قیام : قیام جماعت احمدیہ کا ایک بڑا مقصد بنی نوع انسان کی بلا امتیاز ، بے لوث خدمت ہے۔اس حوالہ سے جماعت احمدیہ زائرے نے اپنے منصوبوں کا آغاز تعلیم کے میدان سے کیا۔ستمبر 1987ء میں