سلسلہ احمدیہ — Page 1
1 بسم الله الرحمن الرحيم محمدة وتصلى على رسوله الكريم و علی عبد و اصبح الموعود ) خدا تعالی کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ھوالناصر کی جلد سوم میں اس بات کا ذکر ہو چکا ہے کہ 8 اور 9 رجون 1982ء کی درمیانی شب حضرت مرزا ناصر احمد خلیفہ اسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ایک مختصر علالت کے بعد بقضائے الہی اس دار فانی سے عالم جاودانی کی طرف رحلت فرما گئے۔یہ خبر خلافت حقہ اسلامیہ احمدیہ سے وابستہ افراد جماعت احمد یہ عالمگیر پر غم کا ایک پہاڑ بن کر گری اور اس کے ساتھ ہی دنیا بھر کے احمدی انتہائی صدمہ اور غم اور کرب کی حالت میں ایک دفعہ پھر قدرت ثانیہ کے ظہور کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور نہایت عاجزی اور زاری کے ساتھ دعاؤں میں مصروف ہو گئے۔دوسری طرف منافقین نے ریشہ دوانیاں شروع کر دیں اور جماعت میں فتنہ کھڑا کرنے کی کوشش کی۔اسی طرح جماعت کے مخالفین نے ملکی اخبارات ورسائل میں من گھڑت افواہوں، سراسر جھوٹی ، بے بنیاد، غلط اور لایعنی الزامات پر مشتمل خبروں اور اشتہارات کی اشاعت کی ایک مہم چلا کر مومنین خلافت کے دلوں پر چر کے لگائے۔یہ منافقین اور مخالفین اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ ان کی ان ناپاک کوششوں سے جماعت تفرقہ اور انتشار کا شکار ہو جائے گی ( نعوذ باللہ )۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیے گئے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ایک دفعہ پھر مخالفین کی جھوٹی خوشیاں پامال ہوئیں اور خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت اور رحمت کے زبر دست نشان دکھاتے ہوئے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد کو قدرت ثانیہ کے مظہر رابع م انشاء کے طور پر کھڑا کیا۔آپ 10 جون 1982ء کو خلافت کے منصب پر ممکن ہوئے اور عالمگیر جماعت احد یہ مسلمہ آپ کے ہاتھ پراکٹھی ہوکرشاہراہ غلبہ اسلام پر تیزی سے آگے بڑھنے لگی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ کی وفات سے خلافتِ رابعہ کے انتخاب تک کا وقت اور اس کے بعد کے چند ابتدائی ایام بھی بہت نازک اور بڑے ابتلا کے دن تھے۔لیکن مومنین نے انہیں انتہائی صبر اور وفا اور توکل علی اللہ اور دعاؤں کے ساتھ گزارا۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور آیت استخلاف میں کئے گئے اپنے وعدہ کے مطابق خلافت کے ذریعہ خوف کے ان حالات کو ایک دفعہ پھر امن میں بدل کر