سلسلہ احمدیہ — Page 107
107 روحانیت کی شیرینی کے لحاظ سے بھی ، خشوع و خضوع کے لحاظ سے بھی، غرضیکہ ہر پہلو سے اس کوشش کا نتیجہ سوائے اس کے کچھ نہیں نکلا کہ جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے نماز کا معیار ہر صورت میں ہر پہلو سے اب پہلے کی نسبت بہت اونچا ہو گیا۔“ خطبات طاہر جلد 5 خطبات 1986 ، صفحہ 787) خدا کے فضل سے دنیا بھر میں جماعت احمدیہ کے زیر اہتمام بڑی خوبصورت اور تقویٰ پر مبنی مساجد کی تعمیر کا سلسلہ بھی بہت تیزی سے آگے بڑھا۔ظاہری خوبصورتی اور وجاہت اور حشمت کے لحاظ سے تو جماعت احمد یہ دنیا کی امیر قوموں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔لیکن قربانی کی روح میں دنیا کی کوئی قوم جماعت احمدیہ کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچتی۔جماعت کا اخلاص، اس کی قربانی اور اس کا جذ بہ خدمت حیرت انگیز ہے۔پھر جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان قربانیوں کو قبول فرمایا اور قربانی کرنے والوں کے اموال ونفوس میں برکتیں بخشیں اور اپنے فضلوں سے نوازا سینکڑوں کیا ہزاروں ایسی ایمان افروز داستانیں دنیا بھر میں پھیلی پڑی ہیں۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 18 مئی 1984ء میں فرمایا: اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے ہمیشہ ان باتوں کے الٹ نتائج ظاہر کئے ہیں جو ہمارے خلاف دشمنوں نے مکر اور تدبیریں کیں۔احمدیت کی تاریخ میں ایک دن بھی ایسا نہیں آیا جب کہ دشمن کے ارادوں کے وہ نتائج ظاہر ہوئے ہوں اور ان کی تدابیر کے وہ نتائج بر آمد ہوئے ہوں جو مقصد تھا ان کا کہ ہم یہ کریں گے تو یہ نتیجہ نکلے گا۔انہوں نے جب بھی جماعت احمدیہ کے اموال لوٹے ہیں جماعت کے اموال میں برکت ہوئی ، جب مسجدوں کو منہدم کیا ہماری مسجدوں میں برکت ہوئی، ہمارے نفوس ذبح کئے ہمارے نفوس میں برکت ہوئی، جب قرآن کریم جلائے۔۔تو قرآن کی اشاعت میں بے شمار برکت ہوئی۔جب انہوں نے تلی پرپابندی لگائی توتلی میں برکت ہوئی۔“ چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے پاکستان میں احمدیہ مساجد پر پابندی کے آرڈیننس کے رڈ عمل میں بیرونِ پاکستان کی جماعتوں کو تحریک فرمائی کہ وہ خدا کے گھروں کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔آپ نے 1985ء میں جماعت کو یہ تحریک فرمائی کہ یہ سال مساجد کی تعمیر کے سال کے