سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 106 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 106

106 32 رنئی مساجد تعمیر ہوئیں۔1984ء میں حکومت پاکستان کے ظالمانہ آرڈنینس 20 کے نفاذ کے بعد پاکستان میں احمدیوں کے لئے مساجد کی تعمیر کی اجازت تو ایک طرف، ان پر یہ پابندی لگادی گئی کہ وہ اپنی مسجد کو مسجد بھی نہیں کہہ سکتے۔کئی جگہوں پر احمد یہ مساجد پر حملے کئے گئے۔بعض جگہوں پر احمدیوں سے ان کی مساجد چھین کر ان پر ناجائز قبضہ کر لیا گیا۔بعض جگہ مساجد کو سیل (seal) کر دیا گیا۔بعض مساجد کو منہدم کیا گیا۔مساجد کے ساز و سامان کو لوٹا اور جلایا گیا۔مخالفین کے ارادے تو یہ تھے کہ اس طرح احمدی عبادت سے منحرف ہو جائیں گے۔لیکن معاندین احمدیت کی ان ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف جماعت احمدیہ نے اپنے امام کے تابع وہ رد عمل دکھایا جو ایک حقیقی مومن جماعت کی شان ہے۔وہ پہلے سے زیادہ قوت اور عزم اور ارادوں کے ساتھ عبادات پر قائم ہوئے اور ان کی عبادت کے معیاروں میں اضافہ ہوا۔نمازوں میں باقاعدگی اور التزام اور خشوع و خضوع اور سوز و گداز نے ان کو نئی روحانی رفعتیں بخشیں۔اور خدا تعالی کے گھروں کی تعمیر کے لئے پہلے سے بڑھ کر قربانیاں پیش کیں۔حضور رحمہ اللہ نے معاندین احمدیت کی احمدیوں کو زبر دستی نماز سے روکنے کی کوشش میں ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 28 رنومبر 1986ء میں فرمایا: بکثرت ایسے احمدی جو پہلے نمازوں میں سستی دیکھا جاتے تھے وہ نمازوں میں اور زیادہ مضبوط ہو گئے۔جو باجماعت نماز کے عادی نہیں تھے انہوں نے باجماعت نمازیں شروع کردیں۔جو تہجد نہیں پڑھتے تھے، انہوں نے تہجد پڑھنا شروع کر دی اور جو بے نمازی تھے وہ نمازی بنے لگ گئے اور اس کا رد عمل۔۔۔ایسا وسیع ہے، اتنا پر شوکت ہے کہ صرف پاکستان میں نہیں ہوا یہ رد عمل ، انگلستان میں بھی ہوا، جرمنی میں بھی ہوا، چین میں بھی ہوا ، جاپان میں بھی ہوا، امریکہ میں بھی ہوا ، افریقہ میں بھی ہوا، کوئی دنیا کا ملک ایسا نہیں ہے جہاں پاکستان کے حکمرانوں کی اس ناپاک کوشش کا رد عمل اس صورت میں دنیا میں ظاہر نہ ہوا ہو کہ انہوں نے وہاں احمدیوں کونمازوں سے روکنے کی کوشش کی ہو اور دنیا کے کونے کونے میں احمدی نمازوں پر زیادہ قائم نہ ہو گئے ہوں۔تعداد کے لحاظ سے بھی، جماز کے مزاج کے لحاظ سے بھی،