سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 60 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 60

60 رہ گئی ہے اس کو بھی ڈھیری میں ڈالو اور آگ لگاؤ۔جہاں تک ننکانہ صاحب کی جماعت کا تعلق ہے انہوں نے اپنے عظیم کردار سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا سر بلند کیا۔اور کوئی بھاگ کر کہیں نہیں گیا۔اپنے جلے ہوئے مکانوں میں اپنے بچوں کو لے کر وہیں بیٹھ رہے اور کلیہ دشمن کی اس کوشش کورڈ کر دیا کہ وہ جماعت کی بزدلی دیکھیں۔(ماخوذ از خطبه جمعه فرمود : 14 / اپریل 1989 ء ) قرآن کریم میں سورۃ البروج میں بعض خدا کے پاک بندوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب انہوں نے ربنا اللہ کا دعوی بلند کیا تو بعض ظالموں نے ان کو گڑھوں میں اتارا یا ان کے اموال اور سامانوں کو اکٹھا کیا اور آگیں لگائیں اور تماشے دیکھے اور وہ اس بات کے گواہ تھے اور دیکھ رہے تھے اور مزے اڑا رہے تھے۔نکانہ صاحب میں بھی ایسا ہی واقعہ گزرا۔پولیس اور حکومت کے افسران اپنے سامنے احمدی گھروں کو جلوا رہے تھے اور پھر تماشے دیکھ رہے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 14 اپریل 1989ء میں اس امر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: قرآن کریم نے جو نقشے پرانی قوموں کے کھینچے ہیں اور پرانے متقیوں کے کھینچے ہیں ہم بھی وہ خوش نصیب ہیں جن پر وہ نقشے اطلاق پارہے ہیں اور نکانہ صاحب کی جماعت وہ خوش نصیب جماعت ہے جو اس صدی کی پہلی جماعت ہے۔چک نمبر 563 اور 565 کو بھی شامل کر لیں جو آئندہ صدی کے لئے جماعت کے عزم کا نشان بن گئے ہیں۔کوئی دنیا کی آگ ان کو مغلوب نہیں کر سکتی۔“ (ماخوذ از خطبات طاہر جلد 8- مخطبہ جمعہ فرمودہ 14 اپریل 1989ء) چک سکندر اس افسوسناک واقعہ کے چند ماہ بعد گجرات میں اسی کہانی کو دہرایا گیا۔چک سکندر ضلع گجرات کی تحصیل کھاریاں کا ایک گاؤں ہے۔پانچ سو گھرانوں پر مشتمل اس گاؤں میں قریب سوا سو گھر احمد یوں کے ہیں۔مسلک اور عقیدہ کے اختلاف کے باوجود گزشتہ ایک سو سال سے یہاں کے باشندوں کے باہمی تعلقات انتہائی خوشگوار تھے، حتی کہ احمدیوں اور غیر احمدیوں کی مسجد بھی مشترک تھی لیکن جب ضیاء