سلسلہ احمدیہ — Page 59
59 ( نعوذ باللہ ) جلا دیا ہے اس لئے کل ہڑتال ہوگی اور احتجاجی جلوس نکالا جائے گا۔جماعت احمدیہ کے نمائندگان نے معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے اپنے علاقہ کے ایس ایچ او ڈی ایس پی اور اے سی کو اطلاع کرنے کی کوشش کی اور بمشکل ان تک پیغام پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔اگلے دن جب دوبارہ اے سی سے رابطہ کیا گیا تو اس نے انہیں یقین دلایا کہ حکومت نے کسی بھی قسم کی بدمزگی سے بچنے کے لئے اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لئے مناسب انتظام کر لئے ہیں۔ڈی ایس پی نے بھی ایسی ہی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ ضلعی ہیڈ کوارٹر شیخو پورہ سے مزید پولیس کی نفری بلوالی گئی ہے۔اس پر احمدیوں کو کسی قدر تسلی ہوتی۔اس کے باوجود دستم گروں نے جلوس نکالا اور بد زبانی کرتے ہوئے انتظامیہ کی طرف سے کسی بھی قسم کی مداخلت کے بغیر دندناتے ہوئے انتہائی منظم طور پر کئی گھنٹوں تک احمدیوں کے گھروں پر حملہ آور رہے۔ان کو لوٹا ، انہیں منہدم کرنے کی کوشش کی اور بقیہ ماندہ سامان کو آگ لگادی۔یہ بات توجہ طلب ہے کہ ننکانہ صاحب میں احمدیوں کے گھر شہر کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔حملہ آوروں کے مختلف گروپس نے بیک وقت مختلف علاقوں میں واقع احمدی گھروں پر حملے کئے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ سب کچھ باقاعدہ پلاننگ سے ہور ہا تھا۔ان لوگوں نے گھروں کو آگ لگانے کے لئے سیاہ رنگ کا کیمیکل بھی استعمال کیا۔نکانہ صاحب میں جلاؤ گھیراؤ کے بعد یہ جلوس کچھ ہی فاصلے پر موجود گاؤں چک نمبر 563 گ ب کی طرف روانہ ہوا جہاں پر احمد یہ مسجد اور کچھ گھروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ان بدنصیبوں نے احمدیوں کے گھروں اور مسجد میں موجود کئی قرآن کریم اور تفاسیر قرآن کے نسخوں کو نذر آتش کر دیا۔اور کسی بھی قسم کے الزام سے بچنے کے لئے ان جلے ہوئے نسخوں کو کنویں میں ڈال دیا۔مجموعی طور پر ان واقعات میں 28 احمدی گھروں کو نقصان پہنچایا گیا۔محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس موقع پر احمدیوں کو کسی بھی قسم کا جانی نقصان نہ اٹھانا پڑا۔اس واقعہ میں انتظامیہ مکمل طور پر بلوائیوں کی سر پرستی کرتی رہی۔اطلاعات کے مطابق ڈی ایس پی اسلم لودھی پولیس کی سرکردگی میں خود عوام کو ساتھ لے کر آگئیں لگوا رہے تھے۔دوسری طرف اے سی صاحب بھی اسی شغل میں مصروف تھے اور بعض دفعہ وہ خود سامان نکال کر پکڑاتے تھے کہ یہ چیز