سلسلہ احمدیہ — Page 739
739 سمجھتے ہوں اور دلائل کی رُو سے اپنے مذہب کے عقائد پر قائم ہوں۔مگر آج کی دنیا میں ایسے بہت کم لوگ ہیں۔اور یورپین ممالک میں تو ایسے بہت ہی کم لوگ ہیں جو دلائل کی بنیاد پر عیسائیت پر قائم ہوں۔ایک پرانا طبقہ ہے جن کو ابھی تک نئے زمانے کی ہوائیں نہیں لگیں وہ عیسائیت پر اس وجہ سے قائم ہیں کہ انہوں نے اپنی وراثت میں عیسائیت کو پایا۔ان کی کوشش کا اور ان کی عقلوں کا عیسائیت کے ساتھ چھٹے رہنے سے کوئی بھی تعلق نہیں۔ایسے طبقے کو جب آپ دلائل کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں تو بالعموم یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ وہ لوگ دلائل کی بنا پر عیسائیت کے ساتھ نہیں چمٹے ہوئے اس لئے دلائل کی رُو سے ان کو الگ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ان کے اندر ضد پائی جائے گی۔ان کے اندر ہٹ دھرمی پائی جائے گی۔آپ بائبل کے حوالوں سے، عہد نامہ قدیم کے حوالوں سے اور عہد نامہ جدید کے حوالوں سے اور عقل کے حوالوں سے ان کو سمجھانے کی کوشش کریں تو بات کے سمجھنے کے باوجود بھی وہ ہٹ دھرمی دکھاتے ہیں اور اکثر وہی طبقہ اس وقت عیسائیت پر مضبوطی سے قائم ہے جو عقل کو رخصت دے کر ایک ضد کے طور پر ایک مذہب کو اپنائے ہوئے ہے اور ان کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ دلائل مذہب کی موجودہ شکل کو سچادکھاتے بھی ہیں یا نہیں۔پس ایسے لوگوں سے تو دلائل کی بات ہو نہیں سکتی۔وہ لوگ جو اس وقت بھاری اکثریت میں ہیں یعنی یورپ کا نوجوان طبقہ خصوصیت کے ساتھ سکنڈے نیویا میں نوجوان ہی نہیں بلکہ بڑی عمر کے بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو عیسائیت کے قائل ہی نہیں۔کسی مذہب کے بھی قائل نہیں۔خدا کی ہستی پر اگر ایمان ہے تو ایک سرسری سا ڈور کا ایمان ہے ورنہ عملاً یہ ایک دہریت کی زندگی بسر کرنے والے لوگ ہیں۔ان قوموں میں ان حالات میں آپ عیسائیت کے خلاف یا عیسائیت کی صحیح تصویر دکھانے کے لئے سچی عیسائیت کے حق میں کیا دلائل دیں گے۔جو بھی آپ دلائل دیں گے ان کی سمجھ اور دلچسپیوں سے بالاتر ہیں۔وہ سمجھیں گے کہ آپ پتہ نہیں کسی زمانے کی باتیں کر رہے ہیں۔اب تو دور بدل چکا ہے۔ہم لوگ نئے میدانوں میں نکل آتے ہیں۔نئی دلچسپیوں کی تلاش میں ہیں۔ہمیں ان باتوں میں کوئی دلچپسی نہیں کہ عیسائیت کیا تھی، کیا ہے، کیا ہونی چاہئے؟ پس اس پہلو سے آپ کے دلائل