سلسلہ احمدیہ — Page 672
672 پہلے ان کی تعداد 366 تھی۔یہ 962 مبلغین ہیں جنہوں نے ساری دنیا کو چینج دے رکھا ہے۔حضور رحمہ اللہ نے دعوت الی اللہ کے ثمرات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ: مولویوں کی جو تعلمیاں تھیں وہ آپ نے سن لیں، یہ کہتے تھے اس مباہلے کے سال میں احمدیت کا نشان دنیا سے مٹ جائے گا۔گزشتہ سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں سولہ لاکھ بیعتوں کی توفیق ملی تھی اور میں نے وہیں یہ اعلان کیا تھا کہ دعا کریں تو اگلا سال تین ملین کا سال بن جائے جو دنیا کی تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ ہوگا۔کبھی دنیا کی آنکھ نے یہ نظارہ نہیں دیکھا کہ کسی ایک مذہب میں خدا تعالی کے فضل کے ساتھ تین ملین انسان ایک سال میں داخل ہورہے ہوں۔آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اب تک حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی صورت میں اس وقت بیعتوں کی تعداد تیس لاکھ چار ہزار پانچ صد چوراسی (30,04,584 ) ہو چکی ہے۔اب یہ مولوی چاہیں تو جس غضب کی آگ میں جلیں، جو چاہیں آہ و بکا کرلیں۔جو بربادی اس مباہلے نے ان پر آسمان سے اُتاری ہے اُس بربادی کو یہ ڈور نہیں کر سکتے ، یہ ہٹا نہیں سکتے۔وہ اب ان کے گلے کا پھندا بن چکی ہے۔اور جو رحمتیں اور نعمتیں خدا نے اس ایک سال میں ہم پر نازل فرمائی ہیں اس میں آپ یہ نہ مجھیں کہ ان کی بد دعاؤں کی وجہ سے ہے۔ان کی تو بد دعاؤں کو بھی اللہ نہیں سنتا۔یہ منحوس لوگ ہیں ان کے کہنے نہ کہنے کا کوئی اثر آسمان تک نہیں پہنچتا۔یہ ہماری التجائیں اور ڈھائیں ہی تھیں، ہماری عاجزانہ گڑ گڑا ہٹ تھی جو آسمان نے قبول کی اور آسمان سے یہ تیس لاکھ احمدیوں کی بارش ہوئی ہے۔(ماخوذ از خطاب حضرت خلیفة اسمع الراج رحم الله فرمودہ 28 جولائی 1997ء بر موقع جلسہ سالانہ یوکے) الغرض مباہلہ کے اس سال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جماعت کے حق میں تائید اور نصرت کے لاتعدادنشانات ظاہر ہوئے۔حضور رحمہ اللہ کا محولہ بالا خطاب ایسے بہت سے دلچسپ، حیرت انگیز اور ایمان افروز واقعات پر مستعمل ہے۔۔۔۔