سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 670 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 670

670 احمدی مساجد شہید کیں، کئیوں کو نمازیوں سے خالی کر دیا۔یعنی شہید نہ بھی ہوئیں تو انہیں اپنی طرف سے بے رونق کر دیا۔وہاں کوئی خدا کی عبادت کرنے والا نہیں جاتا کیونکہ ان مساجد پر تالے پڑے ہیں۔ان سب کو اگر ہم شمار کریں تو تمام مساجد ملا کر تیس، چالیس سے زیادہ نہیں ہوں گی۔اس سے بہت زیادہ ہوتیں اگر احمدی میری صبر کی تعلیم کے معاملے میں مسجد کے معاملے میں اتنے زیادہ حساس نہ ہوتے۔میں اگر چہ ان کو صبر ہی کی تلقین کرتا ہوں اور یہی میرا کام ہے لیکن مسجد کو اپنے سامنے اجڑتے یا غیروں کے ہاتھ میں جاتا دیکھنا وہ برداشت نہیں کر سکتے اور اپنی جان مال سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔جماعت ان کو صبر کی تلقین کرتی رہتی ہے۔وہ کہتے ہیں سر چھوڑ و اب ہم سے صبر نہیں ہوتا۔ہم مسجد کو خدا کا گھر بنا کے رکھیں گے اور اس کو ویران نہیں ہونے دیں گے۔یہ وجہ ہے کہ حکومت نے مسجد کے معاملے میں تمام کارندوں کو ہدایت دے رکھی ہے کہ احمدیوں کی مسجد کے زیادہ قریب نہ جانا پھر جو تمہیں خطرہ ہوگا تم اس کے ذمہ دار ہو گے۔اس سے پہلے ساہیوال میں جو واقعہ گزر چکا ہے وہ بھی ان کے سامنے نشان ہے۔پس یہ وجہ ہے کہ جماعت کو خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنی اکثر مسجدوں پر قبضہ نصیب ہے اور جو مسجدیں ہاتھ سے نکلی ہیں وہ نہایت بے بسی کی حالت میں نکلی ہیں۔پولیس فورس کے غیر معمولی اجتماع کی وجہ سے ہاتھوں سے نکلی ہیں۔ان چند مساجد کے ہاتھ سے نکلنے کے بعد اللہ تعالی نے 84ء سے اب تک ہمیں 5,045 نئی مساجد دنیا میں عطا کی ہیں۔لیکن اللہ کی یہ شان ہے کہ محض اینٹ گارے کی مساجد عطا نہیں ہوئیں۔کچھ تو ہم نے بنائیں۔لیکن اکثر مساجد جن کی تعداد 4,236 ہے اپنے سارے نمازیوں سمیت احمدی ہوتی ہیں اور خدا تعالی کے فضل کے ساتھ تمام تر گاؤں جن میں وہ مساجد تھیں کلینہ احمدی ہو گئے اور اس طرح خدا تعالی نے اپنے فضلوں کی بارش آسمان سے برساتی ہے جس کا شکریہ ادا کرنے کی ہمیں توفیق مل ہی نہیں سکتی کیونکہ بارش کے کتنے قطروں کا آپ شکر یہ ادا کریں گے، یہاں تو ایک ایک قطرہ ایسا ہے جو اس کے فضل نے دریا بنا دیا ہے۔حضور رحمہ اللہ نے اس سال اللہ تعالیٰ کے افضال اور اس کی طرف سے عطا ہونے والی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: