سلسلہ احمدیہ — Page 667
667 وزیر اعظم پاکستان کا بیان ہے کہ : فرقہ واریت کا معاملہ اب ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔“ ہفت روزہ اخبار Nation نے لکھا ہے The week that was death and devastation اس سلسلے میں وہ اس ہفتے کی تباہی اور بربادی کی داستان لکھتے ہیں۔یہ تو اس ملک کا حال ہے جس نے احمدیت کو اپنے وطن سے کینسر کی طرح اکھاڑ کر باہر پھینکنے کا دعوی کیا تھا اور احمدیت کو نکال دینے کے بعد وہ سمجھے تھے کہ اب یہ ملک پاک ہو گیا ہے۔جس رنگ میں یہ پاک ہوا ہے یہ آپ لوگ دیکھ سکتے ہیں۔اگر اسی کا نام پاکبازی ہے، یہی اسلام ہے تو اس پاکبازی اور اس اسلام سے ہماری تو بہ۔ہم غیر مسلم کہلانے والے ان کے اس اسلام سے بہت بہتر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے دُنیا بھر میں اعلائے کلمتہ اللہ کر رہے ہیں اور کثرت کے ساتھ وہ لوگ جو پہلے توحید کے دشمن تھے وہ توحید کے عاشق بنتے چلے جارہے ہیں اور یہ ساری توفیق جماعت احمدیہ کو اس سال پہلے سے بہت بڑھ کر نصیب ہوئی ہے۔جن لوگوں نے یہ دعویٰ کیا تھا، مساجد میں اعلان کیا تھا کہ احمدیت کی بربادی اور اپنے ایک جان ہونے کے لئے دعائیں کریں اُن کا یہ حال ہے کہ ہیلی فیکس کی جامعہ مسجد میں ہنگامہ آرائی ہوئی۔کمیٹیاں بٹ گئیں۔ایک دوسرے پر گالی گلوچ ہوئی۔بوٹوں سمیت پولیس ان مسجدوں میں گھستی رہی اور اتنا شور پڑا مسجد میں گالی گلوچ کا کہ کہتے ہیں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔اخباروں میں جو خبریں شائع ہوئیں ان میں لکھا ہے مسلم سٹی کمیونٹی دو دھڑوں میں بٹ گئی۔اور جھگڑا کس بات کا تھا؟ یورپین کمیونٹی کی وجہ سے پچاسی ہزار پاؤنڈ کی گرانٹ ملی تھی اور یہ دونوں فریق وہ گرانٹ ہتھیانا چاہتے تھے۔جس طرح پڑی پھینکی جاتی ہے شئے کو اور شمئے لڑتے ہیں اس طرح یہ لوگ اس پچاسی ہزار پاؤنڈ کے اوپر لڑتے پھرتے ہیں اور جانیں دیتے پھرتے ہیں۔ایک دوسرے کو موت کی دھمکیاں دی گئیں۔پولیس کی حفاظت میں نمازیں ادا کی جانے لگیں۔