سلسلہ احمدیہ — Page 637
637 دو تم لوگوں کے خلاف بھی تو باقی سب مسلمان فرقوں کے یہی دعاوی رہے ہیں تو تم بھی تسلیم کرلو چ لیکن تم کر بھی لو گے تو ہم پھر بھی نہیں کریں گے۔کیونکہ اس بکو اس کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم واقعتا خدا کی توحید کے منکر ہو جائیں۔ان الزامات کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم واقعتا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت کا انکار کر دیں۔ان الزامات کا مطلب یہ ہے کہ واقعتا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ کا ہمسر یا ان سے بڑھ کر سمجھنے لگ جائیں۔تو جو کچھ تمہارے بس میں ہے کرو۔پہلے بھی میں نے یہی کہا تھا۔آج بھی یہی کہتا ہوں اور یہی بات دہراتا رہوں گا۔جو کچھ کرنا ہے کرو تم اپنے پیادے بڑھالاؤ، اپنے سوار نکال لاؤ، چڑھا دو ہم پر اپنی دشمنی کی فوجیں۔جس طرف سے آسکتے ہو ہو لیکن ان باتوں سے احمدیت ٹل نہیں سکتی کیونکہ احمدیت کا وجود ہے یہ اور وہ ہے کلمہ توحید کی گواہی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلیہ وسلم کی رسالت اور عبدیت کی گواہی اور یہ گواہی کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور کوئی نہیں جو کبھی دنیا میں آپ کی شان کا ہمسر پیدا ہوا۔نہ آئندہ کبھی ہوگا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خمیر آپ کی محبت سے اٹھا ہے، آپ کے عشق سے اٹھا ہے، آپ کی کامل غلامی سے اٹھا ہے، آپ پر فدا ہو جانے کے ساتھ اٹھا ہے وہ خمیر تو ان باتوں سے تم ہمیں اپنی گندہ دہنی سے کیسے روک سکتے ہو۔نہ روک سکتے ہو۔نہ کبھی روک سکو گے۔“ حضور نے مزید فرمایا : 66 یہ حوالے کہ پاکستان کی کانسٹی ٹیوشن یہ کہتی ہے اس پر ایمان لے آئیں، کیسی احمقانہ بات ہے کہ پاکستان کی کانسٹی ٹیوشن کا آئے دن تم انکار کرتے پھرتے ہو۔جب کوئی حوالہ ملتا ہے اسی کانسٹی ٹیوشن نے ہمیں آزادی ضمیر کا حق جو دیا ہے وہ تم کیوں نہیں مانتے۔اس لئے جہالت کی حد ہے۔ایک قوم جب فیصلے کرتی ہے ان کی مرضی کے خلاف ہو تو کہتے ہیں ہم دھرنا دیں گے، ہم سڑکوں پر بیٹھ جائیں گے، ہم کسی قیمت پہ نہیں مانیں گے۔اور اس کے باوجود ہمارا حق ہے کہ ہم میں حج بھی بنائے جائیں، ہم میں وزیر بھی بنائے جائیں۔ہم میں ہر عہدے کے لوگ چاہے اہل ہوں یا نہ ہوں، منتخب کر لئے جائیں۔اور احمدیوں پر یہ الزام کہ چونکہ کانسٹی ٹیوشن کو نہیں مان رہے اس لئے ان کو کانسٹی ٹیوشن